Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
80 - 882
 ضعیف ہونے، عبادات کے کثیر اور قلیل ہونے نیز گناہوں کے زیادہ اورکم ہونے کے اعتبار سے ہوں گی۔
	الغرض عذاب کی سختی گناہوں کی قباحت کی شدت اور کثرت کے سبب ہوگی اور عذاب کی کثرت گناہوں کی کثرت کے باعث ہوگی اورعذاب کی مختلف انواع گناہوں کی مختلف انواع کی وجہ سے ہوں گی اور یہ معاملہ قرآنِ کریم کے دلائل کے ساتھ نورِ ایمان کے ذریعے صاحِبِ دل لوگوں پر ظاہر ومنکشف ہے۔ درج ذیل فرامین باری تعالیٰ کا یہی معنیٰ ومفہوم ہے:
(1)... وَمَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیۡدِ ﴿۴۶﴾ (پ۲۴،حمٓ السجدة:۴۶) 	ترجمۂ کنز الایمان:اور تمہارا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
(2)... اَلْیَوْمَ تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا کَسَبَتْ ؕ (پ۲۴،المؤمن:۱۷) 	ترجمۂ کنز الایمان:آج ہرجان اپنے کئے کا بدلہ پائے گی۔
(3)...
وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلْاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ (پ۲۷،النجم:۳۹)  ترجمۂ کنز الایمان:اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔
(4)... فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾ وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾ (پ۳۰،الزلزال:۷، ۸)
ترجمۂ کنز الایمان:تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔
	ان کے علاوہ بھی آیاتِ مُقَدَّسَہ اوراَحادِیثِ طَیّبہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عذاب اور ثواب اَعمال کا بدلہ ہوں گے اور یہ ثواب وعذاب سب عدل ہی سے ہوگا جس میں کوئی ظُلْم نہ ہوگا۔ البتہ! جانِبِ عَفْو یعنی رحمت زیادہ ہوگی۔ جیساکہ حدیْثِ قُدسی ہے:”سَبَقَتْ رَحْمَتِیْ غَضَبِی یعنی میری رحمت میرے غضب پر حاوی