ذلّت کےساتھ ملتاہےمثلاً کسی سے مانگ کر، کسی کوانتظاراورمشقت کےبعدملتاہےمثلاًتاجر، کسی کومحنت کے بعد ملتاہے مثلاً کاریگر، کسی کو عزت کے ساتھ ملتاہے مثلاً صوفیاکرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو کہ یہ کسی صاحِبِ اقتدار کے پاس جاتےہیں اوراس سے رزق حاصل کرتےہیں اور واسطے کی جانب توجّہ نہیں کرتے۔
دنیا کی حرص میں انتہائی درجہ کو پہنچنے والے:
٭…خیالی اسباب:(اسباب کا تیسرا درجہ) وہ اسباب ہیں جو خیالی طورپر پیداہوں اور ان کا تعلق ایسی چیزوں کے ساتھ ہوجن پر اعتماد نہیں ہوتاجیسے مال کمانے کےنئے طریقے ڈھونڈنا۔خیالی اسباب کئی طرح کےہیں اور ہرایک سبب بندےکو توکل کےتمام درجات سے نکال دیتاہے۔ہر شخص اس میں مبتلانظر آتاہے یعنی وہ شخص جو جائز اور نئے طریقہ کےذریعہ مباح مال کماتا ہےاور وہ شخص بھی جومُشْتَبَہ مال لے یا مشتبہ طریقہ اختیار کرکے مال کمائے۔یہ لوگ دنیا کی حرص میں انتہائی درجہ کو پہنچ چکے ہیں اور اسباب پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں۔ یادرہے کہ یہ درجہ توکل کوبالکل ختم کردیتاہے، لہٰذا اس درجہ کو پہلے دونوں فائدہ مند درجوں کی مثل قرار دینا ایسا ہی ہےجیسے نقصان دہ چیزوں کو دور کرنے کے لئےجھاڑ پھونک کروانا،فال لینااورجسم داغنا کیونکہ رسول ِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے متوکلین کے یہ اوصاف بیان فرمائے ہیں کہ وہ ان سےبچتے ہیں اور یہ نہیں فرمایاکہ وہ کوشش نہیں کرتے یا آبادی میں نہیں رہتے یاکسی سے کوئی چیز نہیں لیتےبلکہ یہ فرمایاہے کہ متوکلین ان اسباب کو اختیار کرتےہیں۔ جن اسباب پر بھروسا کیا جاتاہے ان کی مثالیں بےشمار ہیں جنہیں گننا ممکن نہیں۔
حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ تُستریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:”توکل(اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر یقین کرکے) کوشش کو چھوڑ دینے کا نام ہے۔“اور آپ فرماتے ہیں:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مخلوق کو پیدا فرمایالیکن اپنے اوران کے درمیان کوئی پردہ نہیں رکھاالبتہ پردہ مخلوق کی جانب سے ہے جو کہ کوشش میں پڑے رہنا ہے۔“
شایَدمذکورہ قول سےمرادغورو فکر کرکے دور والے اسباب کوچھوڑ ناہےکیونکہ انہی اسباب میں کوشش کی ضرورت ہوتی ہے،واضح اسباب میں اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ظاہر ہوگیاہےکہ اسباب دو طرح کے