Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
798 - 882
دو چیزوں پر سب کا اِتِّفاق ہے:
	حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتےہیں: لوگوں نےرزق اورموت کے علاوہ ہرچیز میں اختلاف کیا ہے لیکن اس پر سب متفق ہیں کہ رزق اور موت دینے والااللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کےسوا کوئی نہیں۔
دعا کا اثر:
	حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اگر تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پراس طرح توکل کرو جیسا توکل کا حق ہے تو وہ تمہیں ضرور رزق عطاکرے گا جیساکہ پرندے کو عطاکرتاہے کہ وہ صبح خالی پیٹ نکلتاہے اور شام کوسیر ہوکر لوٹتا ہے۔(1) اور تمہاری دعا سے پہاڑ ہل جائیں۔(2)
ہر جاندار کو رزق ملتاہے:
	حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:پرندےکی طرف دیکھو، کاشت کاری کرتاہےنہ  فصل کاٹتاہےاورنہ ذخیرہ کرتاہےلیکن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسےہردن رزق عطاکرتاہے۔اگرتم یہ کہوکہ ہمارے پیٹ بڑے ہیں تو جانوروں کو دیکھو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے کس طرح اس مخلوق کے بڑے پیٹ کے لئے رزق مقرّر کردیا ہے۔(3)
مُتَوَکِّل  مشقت نہیں اٹھاتا:
	حضرت سیِّدُنا ابویعقوب سوسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں:توکل کرنےوالوں کےرزق لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں اور انہیں محنت نہیں کرنی پڑتی جبکہ عام لوگ مصروف رہتے ہیں اورمَشَقَّت اُٹھاتے ہیں۔
رزق ملنے  کے مختلف انداز:
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے رزق سب کو ملتاہےلیکن کسی کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب التوکل والیقین، ۴/ ۴۵۲، حدیث:۴۱۶۴
2…نوادر الاصول للحکیم الترمذی، الاصل السادس و الثلاثون والمائتان، ۲/ ۸۹۱، حدیث:۱۱۸۴
3…المصنف لابن ابی شیبة، کتاب الزھد، کلام عیسی ابن مریم، ۸/ ۱۱۲، حدیث:۷