اسباب سے دور رہنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے طریقے کو نہ جاننا اور اس کی حکمت کی خلاف ورزی ہے، بھروسا اسباب کے بجائے اس کی ذات پر ہواورپھر اس کے طریقے کے مطابق عمل کیاجائے تو یہ توکل کے خلاف نہیں ہے جیسے مقدمہ کے وکیل کی مثال پیچھے گزری ہے۔ اسباب کی دو قسمیں ہیں:(۱)ظاہری اور (۲)مخفی۔ توکل کے معنی یہ ہوئے کہ انسان ظاہری اسباب سے جدا ہوکر مخفی اسباب اختیار کرے لیکن دلی اطمینان اسباب پیدا کرنے والےپر ہونہ کہ اسباب پر۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
کسی شخص کا محنت مزدوری کے بغیر کسی شہر میں سکونت اختیار کرناکیسا ہے حرام،مستحب یا مباح؟
جواب:یہ حرام نہیں ہےکیونکہ جب جنگلوں میں سفر کرنےوالااپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والا نہیں ہوا تو یہ شخص کس طرح ہلاکت میں ڈالنے والا ہوگا کہ اس فعل کو حرام کہاجائے؟ یہ ناممکن بھی نہیں کہ رزق اس کے پاس وہا ں سے آئے جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہ ہو البتہ کچھ دیر لگ سکتی ہےجس پر صبر کرنا آسان ہے۔لیکن اگر اس نے گھر کا دروازہ بند رکھا تاکہ کوئی اس تک نہ پہنچ سکے تو ایسا کرنا حرام ہےاوراگرگھر کا دروازہ کھلا ہے اور فارغ بیٹھا ہےکہ عبادت میں مشغول بھی نہیں تو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ باہر نکلےا ور مال کمائےاگر ایسا نہ کیا تو بھی حرام نہیں ہےلیکن مرنے کےقریب ہوجائے تو اس پر لازم ہے کہ باہر نکلےاور کسی سے کچھ مانگے یا مال کمائے اوراگر اس کا دل عبادت میں یوں مشغول ہوکہ نہ تو لوگوں کی جانب توجّہ کرے نہ ہی اس بات کی جانب توجّہ کرےکہ کوئی دروازے سے آئے اور اس کا رزق دے جائےبلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے لو لگا کر رکھے اور عبادت میں مشغول رہےتویہ عمل افضل ہے کیونکہ یہ توکل کا ایک درجہ ہےکہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں مشغول ہوجائےاور رزق کا انتظام نہ کرے۔ایسی صورت میں رزق یقیناً اس کےپاس آئےگا اور اسی وجہ سے اہلِ علم فرماتے ہیں:اگر بندہ اپنے رزق سے بھاگے تو رزق اس کو ڈھونڈلیتاہے جس طرح موت سے بھاگے تو موت اسے پالیتی ہےاوراگر بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعاکرے کہ اسے رزق نہ دیا جائے تو اس کی دعا قبول نہیں کی جاتی اور وہ گناہ گارہوا اسے فرمایا جاتا ہے:”اےجاہل!یہ کیسے ہوسکتا ہےکہ میں تجھے پیدا کروں اور رزق نہ دوں؟“