آتا نیز جنگلوں میں بآسانی ڈول اور رسی نہیں ملتے جس طرح بآسانی گھاس مل جاتی ہےاورپانی کی ضرورت وضو کے لئے دن میں کئی مرتبہ پڑتی ہے جبکہ پینےکےلئے ایک یا دو دن میں ایک مرتبہ ضرور پڑتی ہےکیونکہ مسافر چلنے کی حرارت کی وجہ سے پیاس برداشت نہیں کرسکتا اگرچہ بھوک برداشت کرسکتا ہے، ایسے ہی ایک کپڑا پہنا ہوتا ہے جوکبھی پھٹ جاتا ہےاور سَتْر ظاہر ہوجاتاہےاورہر نماز کے وقت قینچی اور سوئی بآسانی نہیں ملتی اورنہ ہی کوئی اور چیز سینے اور کاٹنے کے لئے ملتی ہے۔
ہروہ چیز جو ان چاروں کی طرح ہواس کا تعلق دوسرے درجہ سے ہوگا کیونکہ یہ سب چیزیں یقینی نہیں ظنی ہیں کہ ممکن ہے کپڑا نہ پھٹے یا کوئی انسان دوسرا کپڑا دےدے یا کنویں کےقریب کوئی پانی پلانے والا مل جائے لیکن یہ ممکن نہیں کہ کھاناخود حرکت کرکے اس کے منہ میں پہنچ جائے۔دونوں درجات میں فرق ظاہر ہوگیا ہے لیکن توکل کے معاملہ میں دوسرا درجہ پہلے درجے کی طرح ہے۔اسی وجہ سےہم یہ کہتےہیں کہ اگر کوئی شخص کسی گھاٹی میں چلاجائے اور ”مُتَوَکِّلْ“ بَن کر بیٹھ جائے جہاں نہ پانی ہونہ گھاس ہواورنہ کسی کا گزر ہوتا ہو تو ایسا شخص گناہ گارہوگا کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والا ہے۔
حکایت:لوگوں کے ذریعے رزق پہنچانااللہ عَزَّ وَجَلَّکو پسند ہے
مروی ہے کہ ایک زاہد آبادی سے کنارہ کشی کرکےپہاڑ کے دامن میں بیٹھ گیااور کہنے لگا:”جب تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے میرا رزق نہ دے گا میں کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا۔“ ایک ہفتہ گزر گیااور رزق نہ آیا، جب مرنے کے قریب ہوگیا توبارگاہِ الٰہی میں عرض گزار ہوا:”اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ! تو نے مجھے پیدا کیا ہے لہٰذا میری تقدیر میں لکھا ہوا رزق مجھے عطاکردےورنہ میری روح قبض کرلے۔“غیب سے آواز آئی:”میرے عزت و جلال کی قسم!میں تجھے رزق نہیں دوں گایہاں تک کہ تو آبادی میں جائےاورلوگوں کے درمیان بیٹھے۔“ زاہد آبادی میں گیااوربیٹھ گیا،کوئی کھانالےکر آیاتوکوئی پانی لایا،زاہد نے خوب کھایا اور پیا لیکن دل میں شک پیدا ہوگیا تو غیب سے آواز آئی:”کیا تو اپنے دنیاوی زُہْد سے میرا طریقہ بدل دینا چاہتاہے،کیا تو نہیں جانتا کہ اپنے دست قدرت سے لوگوں کو رزق دینے کے بجائے مجھےیہ زیادہ پسند ہے کہ لوگوں کےہاتھوں سے لوگوں تک رزق پہنچاؤں۔“