پر بھروسا کرنا چاہئے۔ جب بندے کا علم اور حال اس طرح ہوجائے تواسے چاہئے کہ کھانےکی طرف ہاتھ بڑھالے کہ اب وہ توکل کرنے والاہے۔
٭…ظنی اسباب:(اسباب کا دوسرا درجہ) وہ اسباب ہیں جو یقینی نہ ہوں لیکن غالب گمان یہی ہو کہ چیزیں ان کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتیں اورچیزوں کا ان کے بغیرپایاجانا بہت مشکل ہے۔ مثلاً کوئی شخص شہروں اور قافلوں سے جُدا ہوکرسُنسان راہوں پر سفر کرے جن پر کبھی کبھار ہی کوئی آتاہے تو اگراس کا سفر بغیر زادِراہ کے ہوتو یہ توکل نہیں ہےکیونکہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا طریقہ یہ رہا ہےکہ ایسے راستوں پر زادِراہ لےکر سفرکرتےاورتوکل بھی باقی رہتا کیونکہ ان کا اعتماد زاد ِ راہ پر نہیں بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل پر ہوتا۔ اگرچہ زادِراہ کے بغیر سفر کرنا بھی جائز ہے لیکن یہ توکل کا بلند ترین درجہ ہےاوراسی مرتبہ پر فائز ہونےکی وجہ سے حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوّاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا سفر بغیر زادِ راہ کے ہوتاتھا۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
سُنسان راہوں میں بغیر زاد راہ کے سفر کرنا توہلاکت کی کوشش کرنا ہے(اور خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے)؟ جواب:اس کے حرام نہ ہونے کی دو شرطیں ہیں:ایک شرط یہ کہ آدمی مجاہدہ کرکے اپنے نفس کو ہفتہ یا کچھ دن بغیر کھائے رہنےکا عادی بنالےکہ نہ دل میں پریشانی ہونہ کوئی خیال آئےاورنہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں کوئی مشکل ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ گھاس یا کوئی معمولی چیز کھاکربدن کو طاقت پہنچانے کا عادی بنالے۔ ان دونوں شرطوں کے بعد اسے بآسانی ہر ہفتہ راستہ میں کوئی نہ کوئی آدمی مل جائے گا یا کسی گاؤں یا بستی تک پہنچ جائے گا یا کوئی ایسی گھاس مل جائے گی جس پر گزارا ہوجائےاور نفس کے ساتھ مجاہدہ کی بدولت زندہ رہے۔
سوئی، قینچی، ڈول اور رسی:
مجاہدہ توکل کا ستون ہے اور اسی پر حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوّاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جیسے متوکلین بھروسا کرتے تھے، اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوّاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے ساتھ سفر میں ہمیشہ سوئی، قینچی،ڈول اور رسی رکھا کرتےتھے اور فرماتے:”یہ چیزں توکل کو برباد نہیں کرتیں۔“کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ پانی جنگلوں میں زمین کی سطح پر نہیں ہوتااور ڈول اوررسی کے بغیرکنویں کا پانی خود ہی اوپر نہیں