ان سے جدا نہیں ہوں گے۔مثلاًتمہارے سامنے کھانا رکھا ہو،تم بھوکے ہواورتمہیں اس کی ضرورت ہولیکن تم اپنا ہاتھ اس کی طرف نہ بڑھاؤ اور یوں کہو:’’میں توکل کرتا ہوں۔‘‘(اوروجہ یہ بتاؤکہ) توکل کی شرط کوشش نہ کرنا ہے جبکہ کھانے کی جانب ہاتھ بڑھانا،اسےدانتوں سے چبانااور اوپر نیچے کے جبڑوں کے ذریعہ نگل لینا کوشش اورحرکت کرناہےجوکہ توکل کی شرط کے خلاف ہے،یہ سراسر پاگل پَن ہے جس کا توکل سے کوئی تعلق نہیں۔
وسوسہ اور اس کا علاج:
اگر تم اس بات کا انتظارکرتے ہو اور تمہارا خیال ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بغیر روٹی کے تمہاری بھوک مٹادے گا یا روٹی میں حرکت پیدا کردے گااوروہ خود تمہاری طرف آئےگی یا کسی فرشتہ کو پابندکردے گااور وہ روٹی چباکر تمہارے پیٹ میں پہنچادےگاتو تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے طریقہ کار کو نہ سمجھ سکے۔یہ اسی طرح ہے کہ تم زمین کاشت نہ کرو اور یہ امید باندھو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بغیر بیج کے فصل تیار کردے گا یا یہ امید باندھو کہ بیوی سے ہم بستری کے بغیر اولادپیدا کردے گاجیسے (کنواری)حضرت سیِّدَتُنا بی بی مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت ہوئی۔ایسی امیدیں باندھنا پاگل پَن ہے،اس طرح کی مثالیں بےشمار ہیں،اس وسوسے کاعلاج عمل کے بجائے علم اور کیفیت کےذریعہ ہوسکتاہے۔
علم کے ذریعہ اس طرح کہ تم یہ جان لو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کھانے کو پیدا کیا ،ہاتھوں کو پیدا کیا ،دانتوں کو پیدا کیا اورحرکت کرنے کی طاقت کو پیدا کیا اور وہی ہےجو تمہیں کھلاتااور پلاتاہے۔
کیفیت کے ذریعہ اس طرح کہ تمہارےدل کاسکون اور اعتماد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے افعال پر ہونہ کہ ہاتھوں اور کھانے پر۔ تم اپنے ہاتھوں پر اعتماد کر بھی کیسے سکتےہو کہ ہاتھ کبھی کبھارفالج زدہ ہوجاتےہیں اور سوکھ جاتے ہیں، یونہی تم اپنی طاقت پر بھی کیسے اعتماد کرسکتےہوکہ کبھی تمہاری ایسی حالت ہوجاتی ہے جس سے تمہاری عقل چلی جاتی ہےاور تمہاری حرکت کرنےکی طاقت ختم ہوجاتی ہے، اسی طرح تم کھانا سامنے موجود ہونے پر بھی کیسے بھروسا کرسکتے ہو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کبھی تم پر تمہارے طاقتور دشمن کو مُسَلَّط کردیتاہے یا سانپ بھیج دیتا ہے اور تم گھبراکروہاں سے بھاگ جاتے ہواورکھانا نہیں کھاپاتے، اسی طرح کی اوربھی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل ہے، تمہیں اسی پر خوش ہونا چاہئے اوراسی