تیسری فصل: مُتَوَکِّلِیْن کے اعمال
علم سے کیفیت پیدا ہوتی ہے جس سے عمل کا فائدہ حاصل ہوتاہے جبکہ یہ گمان کرنا کہ توکل جسمانی کوشش کو چھوڑدینے اوراس کاحل تلاش نہ کرنے،زمین پرکپڑے کی کترنوں کی طرح گرے رہنے اور گوشت کے لوتھڑے کی طرح پڑے رہنے کا نام ہے تو یہ جاہلوں کا گمان ہےجوکہ شرعاً حرام ہے کیونکہ شریعت نے متوکلین کی تعریف فرمائی ہے اور ناجائز کام اختیا رکرکے کوئی کس طرح بلنددینی مقام پر فائز ہو سکتا ہے اسی لئے اب ہم اس کی وضاحت کریں گے۔
انسان کے عمومی چار مقاصد
توکل کا اثر اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب بندہ اپنے علم کے مطابق مقصد کو پانے کے لئے کوشش اور حرکت کرے کیونکہ بندہ اپنی کوشش پر اختیا ررکھتاہےاوریہ کوشش کبھی فائدہ حاصل کرنے کےلئے ہوتی ہے جوابھی حاصل نہیں جیسے مال کمانا اور کبھی موجودہ فائدے کو محفوظ کرنےکےلئے ہوتی ہےجیسے ذخیرہ اندوزی اور کبھی آئندہ آنے والے نقصان کو دور کرنےکےلئے ہوتی ہےجیسےحملہ آور،چور یا کسی درندے کو بھگانااورکبھی موجودہ نقصان دہ چیزکودورکرنےکےلئے ہوتی ہےجیسے دوائی کے ذریعہ مرض دور کرنا۔ بندے کی حرکت کا مقصد (عموماً)یہی چار باتیں ہوتی ہیں یعنی فائدہ حاصل کرنایا فائدہ کی حفاظت کرنا یا نقصان دہ چیزکا خوف دورکرنا یا نقصان دہ چیزدور کرنا۔اب ہم دلائِلِ شَرْعِیَّہ سے یہ ثابت کریں گے کہ ان میں سے ہربات کا تعلق توکل کے درجات اورشرائط کے ساتھ ہے۔
پہلا مقصد: فائدہ حاصل کرنا
جن اسباب سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہےان کے تین درجات ہیں۔
اسباب کے تین درجات:
(۱)…یقینی (۲)…ظَنِّی جن پر اعتماد ہو اور (۳)…خیالی جو نہ پختہ ہوں نہ ان پر دل مطمئن ہو۔
٭…یقینی اسباب: یہ ان اسباب کی طرح ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سےچیزوں کے ساتھ قائم ہوچکے ہیں اور