Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
792 - 882
لےجاتایعنی حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام انہیں آگ میں ڈالے جانے سے بچالیتےلہٰذا آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام پر بھروسا نہ کیا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی کاموں کو سنوارنے والا ہے اگر وہ چاہےگاتو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو اس کا م کے لئے  مامور کردےگا۔یہ وہی کیفیت ہے جو حیران ہوجانے والے شخص کی ہوتی ہےکہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر توکل کے معاملہ میں اپنے آپ کوبھی بھول جاتاہےاوردوسری جانب توجّہ بالکل نہیں کرتا۔یہ کیفیت بہت کم پائی جاتی ہے  اگر پائی بھی جائے تو زیادہ دیر اس کا رہنا بہت مشکل ہے۔
(5)…حضرت سیِّدُنا ابوسعید خرّاز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق فرماتےہیں :بغیر سکون کے بےچینی اور بغیر بےچینی کے سکون کا نام توکل ہے۔
	یہ قول دوسرے درجہ کی جانب اشارہ کرتاہےکہ بغیر بے چینی کے سکون سے مراد وکیل پر اعتماد اور دلی اطمینان ہےاور بغیر سکون  کےبے چینی سےمرادوکیل سےفریاد کرناہےاوراس کے سامنے گڑگڑانا ہے جیسے بچّہ اپنی ماں کےسامنے گڑگڑاتا ہےکیونکہ اسے دلی سکون کامل  شفقت ملنے پر ہی حاصل ہوتا ہے ۔
(6)…حضرت سیِّدُنا ابوعلی دقّاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق فرماتے ہیں کہ توکل کےتین درجے ہیں:(۱)…بھروسا کرنا پھر (۲)…تسلیم کرنا اوراس کے بعد (۳)…سپردکرنا۔پہلے درجے والارزق دئیےجانےکےوعدہ پر خاموش ہوجاتا ہے،دوسرے درجے والاوعدہ کوتسلیم کرتاہےجبکہ تیسرے درجے والا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فیصلہ پر راضی رہتاہے۔
	اس قول سے اس طرف اشارہ ہےکہ جس پر توکل کیا جاتا ہےاس کے مختلف درجے ہیں،علم سب درجوں کی  بنیاد ہےاس کے بعدوعدہ اورپھر فیصلہ نافذ ہوتا ہے۔”مُتَوَکِّلْ“ کے دل پرکسی نہ کسی حالت کا موجود  رہنا مشکل بھی نہیں ہے۔توکل کے بارے میں بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے اور بھی کئی اقوال ہیں لیکن ہم انہیں ذکر نہیں کریں گے کیونکہ اقوال  کے مقابلہ میں  کشف زیادہ فائدہ مند ہے۔یہ سب وضاحت توکل کی کیفیت کے بارے میں ہے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے لطف وکرم سے توکل کی توفیق عطافرمائے۔
( صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد )