پھر پوچھاگیا:”کچھ اوربھی بتائیے۔“فرمایا:”بندگی میں نفس کو مشغول رکھنااور رَبُوبِیَّت کے دعوٰی سے نفس کو بچانا۔“
یہ قول اس طرف اشارہ کرتا ہےکہ کسی بھی قسم کی حرکت اور طاقت پر بھروسا نہ کرناتوکل ہے۔
حکایت:دانق اور10ہزار درہم
(3)…حضرت سیِّدُنا حَمدون قصّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار سے کسی نے توکل کے بارے میں پوچھا تو فرمایا:اگر تمہارے پاس دس ہزار درہم ہوں اور تم پرایک دانق (یعنی درہم کا چھٹا حصہ) قرض ہوتوبےفکر نہ ہونا کہ موت آجائے گی اور تمہارے ذمہ قرض باقی رہ جائےگا اور اگر تم پر دس ہزار درہم قرضہ ہواور مرتے وقت ادائیگی کے لئے کچھ نہ چھوڑا ہوتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مایوس نہ ہوناکیونکہ وہ تمہارے قرض کی ادائیگی کا بندوبست فرمادےگا۔
یہ قول اس طرف اشارہ کرتاہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت کاملہ پر ایمان لانااور ظاہری اسباب کے علاوہ پوشیدہ اسباب پر بھی ایمان لانا توکل ہے۔
رب تعالیٰ پر ایسا توکل کہ انسان خود کو بھلادے:
(4)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ قرشی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے کسی نے توکل کے بارے میں پوچھاتو آپ نے فرمایا: ہر حالت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے تعلق قائم رکھو۔عرض کی گئی:کچھ اور بتائیے!فرمایا:جو سبب کسی دوسرے سبب تک لے جائے اسےچھوڑ دو یہاں تک کہ بھروسا ہوجائے کہ تمام کاموں کو سنبھالنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے۔
پہلا قول توکل کے تینوں درجوں کی جانب اشارہ کرتاہےجبکہ دوسرا قول صرف تیسرے درجہ کی جانب اشارہ کرتا ہے۔یہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے توکل کی طرح ہےجب حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے(آگ میں ڈالے جاتے وقت) عرض کی:”کیا آپ کو کوئی حاجت ہے؟“ ارشادفرمایا:”ہے لیکن تم سے نہیں۔“(1)
کیونکہ اگر حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام حاجت ظاہر فرماتے تو یہ ایسا سبب تھا جو دوسرے سبب تک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…حلیة الاولیاء، مقدمة المصنف، ۱/ ۵۲، حدیث:۳۹