Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
790 - 882
 درجہ ہے جبکہ حضرت سیِّدُناابویزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نے جو کچھ فرمایاوہ توکل کی جڑ یعنی علم  کی بلند ترین قسم ہے کہ  حکمَتِ الٰہیہ کو جاناجائے یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےجوفیصلہ فرمادیاوہ ضرور ہوگا۔ پس عَدْل اور فَضْل کی جانب دیکھتے ہوئے جہنمیوں اور جنّتیوں  میں سے کسی ایک کو پسند نہ کیا جائے۔یہ علم کی پیچیدہ قسم ہےاوراس کے بعد تقدیر کے پوشیدہ راز ہیں۔ حضرت سیِّدُنا ابویزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی جب بھی گفتگو فرمایاکرتے تو اعلیٰ پائے اور بلند درجہ کی گفتگو فرماتے۔
موذی جانوروں سے بچنا بھی بھروسا کرنا ہے:
	سانپوں سے احتیاط نہ کرنا توکل کے پہلے درجہ کے لئے شرط نہیں ہےاور جہاں تک امیرالمؤمنین  حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا   غارثور میں سانپوں کے آنے کے تمام راستے بند کرنے کی بات ہے(1) تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے پاؤ ں سے سوراخ بند کئے لیکن آپ کے دل میں ذرا بھی تبدیلی نہ آئی یا اس کا جواب یہ ہےکہ آپ نے حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت میں ایسا کیا نہ کہ اپنی ذات کی وجہ سے اور توکل تو اس وقت جاتا جب ان کے دل میں ایسی بات کی وجہ سے  تبدیلی آتی جس کا تعلق خودان کی ذات سے ہوتا۔اس کے اور بھی جواب ہوسکتے ہیں۔
	اس طرح کی کئی مثالیں اور بھی آئیں گی جو کہ توکل کے خلاف نہیں کیونکہ سانپ سے دل میں حرکت یعنی خوف پیدا ہوتا ہے اور ”مُتَوَکِّلْ“ کو حق حاصل ہے کہ وہ سانپوں سے ڈرے کیونکہ سانپوں کو بھی حرکت اور طاقت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب سے ہے،اگر وہ بچتا ہے تو  اپنی حرکت وطاقت اورکوشش پر بھروسا کرنے والا نہیں بلکہ حرکت وطاقت اورکوشش کے پیدا کرنے والے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر بھروسا کرنے والا ہے۔
(2)…حضرت سیِّدُنا ذُوالنُّون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے کسی نے توکل کے متعلق پوچھاتو فرمایا: لوگوں کو چھوڑدینا اور اسباب ختم کردینا۔
	لوگوں کو چھوڑنے سے مراد ایک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب اشارہ ہے  جبکہ اسباب ختم کرنےسے مرادعمل پر بھروسا نہ کرناہے،اس میں کیفیت کی وضاحت نہیں ہے اگر چہ الفاظ میں ضمناً اس کی وضاحت  ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…شرح اصول اعتقاد اھل السنة والجماعة للالکائی، باب جماع فضائل الصحابة،۲/ ۱۰۹۶، حدیث:۲۴۲۷