اسی آیتِ مقدّسہ کے پیْشِ نَظَر خوفِ خدا رکھنے والے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نے فرمایا:”ہمارا خوف اس لئے ہے کہ ہمیں دوزخ پر سے گزرنے کا یقین ہے اور نجات میں شک ہے۔“
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے جب یہ حدیث شریف بیان فرمائی جو اس شخص کے بارے میں آئی ہے جو دوزخ سے ہزار سال بعد نکلے گا اور پکارتا ہوگا:”یَاحَنَّان!یَامَنَّان! یعنی اے بہت رحم فرمانے والے! اے بہت احسان فرمانے والے!“ اس کے بعد فرمانے لگے:”کاش! وہ شخص میں ہوتا۔“(1)
عذاب کی مختلف صورتیں:
جان لیجئے کہ احادیثِ کریمہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ”جہنَّم سے نکلنے والا آخری شخص سات ہزار سال بعد نکلے گا۔“(2) البتہ! ایک لمحہ اور سات ہزار سال کی درمیانی مدت کی مختلف صورتیں ہوں گی حتّٰی کہ بعض جہنَّم پرسے اُچک لے جانے والی بجلی کی مانند گزر جائیں گے اوروہاں تھوڑا بھی نہیں ٹھہریں گے اور ایک لَحظہ اور سات ہزار سال کے درمیان مختلف درجے ہوں گے، ایک دن، ایک ہفتہ، ایک مہینہ اور دیگر مدتیں۔
پھر عذاب کی شدت کی بھی مختلف صورتیں ہوں گی۔ سب سے زیادہ شدت کی کوئی انتہا نہیں اور کم از کم عذاب یہ ہوگا کہ بندے سے تفصیل کے ساتھ حساب لیا جائے گا جیسے بادشاہ کام میں کوتاہی کرنے والے بعض لوگوں سے مکمل وتفصیلی حساب لیتا اور ان سے بحث کرتا ہے اور پھرانہیں معاف کردیتا ہے۔ بعض اوقات کوڑوں سے سزادیتا ہے اور کبھی کسی اور طریقے سے سزا دیتا ہے۔
عذاب کی مدت اوراس میں شدت کے مختلف ہونے کے علاوہ یہاں ایک تیسرا اختلاف بھی ہے اور وہ عذاب کی انواع کا اختلاف ہے کیونکہ جسے ظلم وزیادتی کے ذریعہ مال چھیننے کی سزا دی جاتی ہے وہ اس کی طرح نہیں ہے جسے مال چرانے یا اٹھالینے، اولاد کو قتل کرنے، حرام کو حلال ٹھہرانے، رشتہ داروں کو تکلیف دینے، کسی کو مارنے یا زبان، ہاتھ، ناک اور کان وغیرہ کاٹ ڈالنے کے سبب سزا دی جاتی ہے،لہٰذاآخرت میں عذاب کی بھی اسی طرح مختلف صورتیں ہوں گی جن پر مضبوط شرعی دلائل قائم ہیں اور عذاب کی یہ صورتیں ایمان کے قوی اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح مسندابی حنیفة للملاعلی القاری،حدیث الاستخارة،ص۲۴،دارالکتب العلمیة۔
2…شرح الشفاء للملاعلی القاری،فصل فی تفضیلہ صلی اللہ علیہ وسلم بالشفاعة…الخ،۱/ ۴۷۹۔