نے نہیں بنائے بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بنائے ہیں جبکہ’’حَوْلٌ‘‘اور’’قُوَّة ٌ‘‘ کا معاملہ ہلاکت میں ڈالنے والا اور خطرناک ہے اسی لئے اسے معتزلہ، فلاسفہ اوروہ لوگ بھی نہیں سمجھ سکے جو ایسےتیز تھےکہ نظرکی تیزی سےبال کی کھال اُتارلیاکرتے اور انہوں نے بڑے باریک بین ہونے کا دعوٰی کیا۔ غافل لوگ اسے سمجھنے میں ہلاک ہوگئے کہ انہوں نے اس اَمر کی نسبت اپنی جانب کی جوکہ توحید میں غیر کو شریک کرنے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ دوسرے کو خالق بنانے کے زُمرے میں آتا ہے۔
جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی توفیق سے اس گھاٹی کو عبور کرے گااس کا رتبہ بلند اور درجہ بڑا ہوگا اور ایسا وہی کرے گا جو ”لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّابِاللہ“ کی تصدیق کرے۔ہم نےماقبل توحیدکے بیان میں دو گھاٹیوں کا ذکر کیا ہے:ایک زمین وآسمان،چاندو سورج،ستارے،بادل وبارش اوربے جان چیزوں کی جانب توجّہ کرنا۔ دوسرا جاندار کے اختیار کی جانب توجّہ کرنا۔یہ گھاٹی دونو ں سے زیادہ بڑی اور خطرناک ہے،ان دونوں کو طے کرکے ہی بندہ توحید کے بلند درجہ پر پہنچ سکتاہے، اسی وجہ سے ”لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّابِاللہ“کا ثواب بہت زیادہ ہے یعنی اس کلمہ کے مفہوم کے مشاہدے کا ثواب بہت زیادہ ہے۔
اب توکل کی کیفیت کامطلب یہ ہوا کہ حرکت اور طاقت سے دستبردار ہوکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسا کرنا۔ اِنْ شَآءَ اللہ اس کی وضاحت اس وقت ہوگی جب ہم توکل کے اعمال کا ذکر کریں گے۔
دوسری فصل: تَوَکُّل کی کیفیت کے مُتَعَلِّق اَقوال بُزُرگان دین
درج ذیل اقوال سے مذکورہ تفصیل واضح ہوجائے گی نیزہرقول کسی نہ کسی بات کی جانب اشارہ ضرور کرےگا۔
(1)…حضرت سیِّدُنا ابوموسٰی دَیبَلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابویزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی سے پوچھا:”توکُّل کیا ہے؟“ فرمایا:”تم کیا کہتےہو؟“میں نے کہا:”بزرگوں نے یہ فرمایا ہے کہ اگر تمہارے دائیں بائیں درندے اور سانپ ہوں توبھی تمہارے باطن میں کوئی تبدیلی نہ آئے۔“حضرت سیِّدُنا ابویزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نے فرمایا:”یہ بات ٹھیک ہےلیکن اگر تم نے جنّت میں جنّتیوں کو نعمتیں ملنے اورجہنّم میں جہنمیوں کو عذاب ملنےمیں سے کسی ایک بات کو پسند کیاتو تم توکل کرنے والے نہ رہو گے۔“
حضرت سیِّدُنا ابوموسٰی دَیبَلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے جو کچھ فرمایا وہ توکل کا بلند ترین درجہ ہے یعنی تیسرا