جانوروں سے بڑھ کر گمراہ:
یہ بات مخفی نہیں کہ ہر چیز اپنی مشابہت والی چیز کی جانب مائل ہوتی ہےلہٰذا جس کا نفس کتابت سیکھنے کے مقابلے میں موچی کا کام سیکھنے کی جانب مائل ہو وہ نفس اپنی حقیقت کے اعتبار سےموچی کے مشابہ ہے۔اسی طرح جو فرشتوں کی لذّتوں کو پانے سے زیادہ جانوروں کی لذّتوں کو پانے کاخواہشمند ہو وہ یقیناً جانوروں کے مشابہ ہے۔انہی لوگوں کے بارےمیں فرمان باری تعالیٰ ہے: اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ ؕ (پ۹،الاعراف:۱۷۹)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ۔
ان لوگوں کا جانوروں سے بڑھ کر گمراہ ہونا اس وجہ سے ہے کہ جانوروں میں صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ فرشتوں کے مقام کوپاسکیں لہٰذا ان کا فرشتوں کے مقام کو نہ پانا ان کے عاجز ہونےکی وجہ سےہےجبکہ انسان میں یہ صلاحیت ہوتی ہےاور جو شخص درجَۂ کمال کو حاصل کرنے پر قادر ہواور حاصل نہ کرے تو زیادہ مناسب یہی ہےکہ اس کی مذمت کی جائے اورزیادہ بہتر یہی ہے کہ اس کی طرف گمراہی کی نسبت کی جائے۔
یہ گفتگو موضوع سے ہٹ کر تھی۔اب ہم موضوع کی جانب لوٹتے ہیں۔ چنانچہ”لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّابِاللہ“ اور”لَااِلٰہَ اِلَّااللہ“کے معنی بیان ہوچکے ہیں، جو شخص ان کے معانی کا مشاہدہ کرکےان کلمات کو نہ کہے اس وقت تک اسے توکل حاصل نہیں ہوسکتا۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
آپ نے کہا کہ”لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّابِاللہ“ میں دو چیزوں کی نسبت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب ہے،اگر کوئی یہ کہے”اَلسَّمَآءَ وَالْاَرْضَ خَلَقَ اللہ یعنی زمین وآسمان کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پیدا فرمایاہے“ تو کیا اس کا ثواب بھی ”لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّابِاللہ“ کے برابرہوگا؟
جواب:ہرگز نہیں کیونکہ ہر چیز کا ثواب اس کے درجہ کے مطابق ملتاہےاور ان دونوں کے درجوں میں کوئی برابری نہیں، بظاہر زمین وآسمان بڑےہیں اور’’حَوْلٌ‘‘اور ’’قُوَّة ٌ‘‘چھوٹے ہیں اگرچہ انہیں مجازاًچھوٹا کہہ سکتے ہیں لیکن کسی چیز کا بڑا ہونا ظاہری جسم سے نہیں ہوتاکیونکہ ہر شخص جانتا ہےکہ زمین وآسمان انسان