Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
787 - 882
	جوروایات اخلاص اور صدق دل کی قید کے بغیر مُطْلَق ذکر ہیں وہاں بھی اخلاص اورصِدْقِ دل کی قید سمجھی جائے گی جس طرح بعض روایات میں ایمان اور نیک اعمال کرنے پر مغفرت کی بشارت ہے جبکہ بعض روایات میں فقط ایمان لانے پر مغفرت کی بشارت ہے تو وہاں بھی نیک اعمال کی قید سمجھی جاتی ہےکیونکہ اُخروی مقام صرف گفتگو سے نہیں ملتاکہ زبان کی حرکت گفتگو ہے۔اسی طرح دل میں کسی بات کا پختہ ہونا بھی گفتگو ہے لیکن  یہ فقط گفتگو ہے اوراخلاص و صدقِ دل  کامعاملہ اس سےالگ ہے۔ جنّتی تختوں پر  صرف مقرّبین جلوہ فرما ہوں گے جو کہ مخلص ہیں، البتہ (بطور اخلاص)ان کے قریب ترین مرتبہ والے اصحابِ یمین کے لئے بھی بارگاہِ الٰہی میں بلند درجات ہوں گےاگر چہ یہ لوگ مقرّبین کے درجات کو نہ پہنچ سکیں گے۔کیا تمہیں نہیں معلوم اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جب مقرّبین کا ذکر فرمایا تو ان کے لئے تخت کا ذکر بھی فرمایا: عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوۡنَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾ مُّتَّکِـِٕیۡنَ عَلَیۡہَا مُتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۱۶﴾ (پ۲۷،الواقعة:۱۵، ۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:جڑاؤ تختوں پر ہوں گے ان پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے۔
	اور جب اصحاب یمین کا ذکر فرمایا تو ان کے لئے جنتی پھل ،پانی ،درخت ،سایہ  اورحوروں کا ذکر فرمایا لیکن تخت کا ذکر نہ فرمایا۔ کھانا،پینا،دیکھنااورنکاح کرنا ان سب چیزوں میں لذّتیں ہیں جو جانوروں کوبھی حاصل ہوتی ہیں لیکن اُخروی مقام کی لذتوں کے مقابلے میں اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے قرب میں اعلیٰ مقام میں جلوہ گر ہونے کی لذّتوں کے مقابلے میں جانوروں کی لذتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔اگر کھانے،پینےاور دیکھنے کی لذّتوں کی کوئی اہمیت ہوتی تو یہ جانوروں کو نہ دی جاتیں نیز ان چیزوں کی اہمیت ہوتی تو فرشتوں کا درجہ جانوروں سے بلند نہ ہوتا۔تمہارا کیا خیال ہے  کہ چونکہ جانورباغات میں سیرسَپاٹا کرتےہیں،درختوں کے سائے اور پانی سے فائدہ اٹھاتے ہیں،جُفْتِی سے لطف اندوز ہوتےہیں تو جانوروں کی یہ حالتیں زیادہ اچھی،عمدہ اور بہترین ہیں؟ کیا عقلمند لوگ ایسا ہی خیال کرتے  ہیں اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمتوں کےسائے میں رہنے والے فرشتوں کو کم اہمیت دیتے ہیں؟ہر گز ایسی بات نہیں کیونکہ جسے  گدھا بننے یا حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کے درجہ پر فائز ہونے کا اختیار دیاجائےتو ممکن نہیں  کہ وہ گدھا بننا پسند کرے۔
( صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد )