لہٰذا اگر وکیل ان کاصحیح استعمال نہ کرتاتو یہ فائدہ مند بھی نہ ہوتیں۔یہ کلمات تو ایک ہی وکیْلِ بَرحق کے لئے کہے جاسکتے ہیں اور وہ باری تعالیٰ کی ذات ہےجوحرکت وطاقت کو پیداکرنے والی ہےجیساکہ توحید کی حقیقت بیان کرتے ہوئے گزرا۔ وہی ان دونوں کو فائدہ مند بنانےوالاہےکہ اسی نے ان دونوں کو شرط قرار دیا ان فوائد ومقاصد کےلئے جو ان دونوں کےبعد پیدا فرمائےگا۔یہی کہنا حق اور سچ ہے کہ کوئی حرکت اور طاقت نہیں لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے، لہٰذا جوشخص اس پورے معاملے کامشاہدہ کرلے گااسی کے لئے وہ عظیم الشان ثواب ہوگا جو”لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ اِلَّابِاللہ“کہنے والے کے لئے حدیث پاک میں آیا ہے۔(1)
٭…سوال:یہ کلمہ زبان پر بڑا آسان ہے نیزدل میں اس کے مفہوم کو بٹھانابھی بڑا آسان ہےپھر کیوں اس ایک کلمہ پر اتنا زیادہ ثواب عطاکیاجائے گا،یہ بات سمجھ میں نہیں آئی؟
٭…جواب: یہ ثواب کی بشارت اس شخص کے لئے ہے جو اس پورے معاملے کا مشاہدہ کرے جسے ہم نے توحید کے تحت ذکر کیاہے اور ”لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّابِاللہ“ اور ”لَااِلٰہَ اِلَّااللہ“کےمفہوم کے درمیان ویسا ہی فرق ہے جیسا ان کے الفاظ اور ثواب میں فرق ہےکیونکہ ”لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّابِاللہ“ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب صرف دو چیزوں کی نسبت ہےیعنی ” حَوْلٌ“ اور ” قُوَّةٌ“ کی جبکہ”لَااِلٰہَ اِلَّااللہ“میں تمام چیزوں کی نسبت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب ہے۔اب خود غور کرلو کہ دو چیزوں اور تمام چیزوں کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے پھر تم سمجھ لوگے ”لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّابِاللہ“ کےثواب کےمقابلے میں”لَااِلٰہَ اِلَّااللہ“ کاثواب کیا ہوگا۔
یہ بھی ذکر ہوچکا ہےکہ توحید کے چاردرجات ہیں یعنی دو چھلکے اور دو مغزہیں۔یہی چاروں درجات ”لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّابِاللہ“کے اور دیگر سارے کلمات کے لئے ہیں، زیادہ تر لوگ دونوں چھلکوں تک محدود رہتے ہیں اور دونوں مغزوں تک نہیں پہنچ پاتے جس کی جانب سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اس قول سے اشارہ فرمایا:جوشخص اخلاص اورصدقِ دل سے”لَااِلٰہَ اِلَّااللہ“کہے اس کے لئے جنّت واجب ہوجاتی ہے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة خیبر، ۳/ ۸۳، حدیث:۴۲۰۵
2…نوادر الاصول للحکیم الترمذی، الاصل الخامس عشر والمائتان، ۲/ ۷۸۳، حدیث:۱۰۸۸، ۱۰۸۹