دورانِ مقدمہ دلائل ذکر کرنے میں کسی قسم کی مدد نہیں مانگتا بلکہ اپنے اوپر اس کا اعتماد کامل کرنا چاہتاہےکہ وکیل وہی کچھ کرے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہےکیونکہ اگر وکیل پر اس کا اعتماد اور بھروسا نہ ہوتا تو وکیل اسے عدالت میں آنے کا نہ کہتا۔واضح اشارہ نہ ہوتووکیل کی عادت اور طریقہ کارکو پہچان کر تعلق رکھتاہے مثلاًوکیل کی یہ عادت معلوم ہوجائے کہ وہ کاغذات کے بغیر مقدمہ نہیں لڑتاتو اس کا توکل اس وقت کامل ہوگا جب وہ اس کےطریقہ کا ر پر اعتماد کرے اور اس کاتقاضاپورا کرےکہ مقدمہ کے وقت اس کے پاس تمام کاغذات موجود ہوں لہٰذا یہ شخص عدالت آنے اور کاغذات مکمل کرکے لانے سے لاتعلقی اختیار نہیں کرسکتاکیونکہ کسی چیز سے لاتعلق رہنا اعتماد کوٹھیس پہنچاتا ہے لیکن تعلق اختیار کرنا کسی طرح بھی اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاتا بلکہ عدالت آنے اورطریقہ کار کے مطابق کاغذات حاضر کرنے کے بعدبیٹھ کر وکیل کے بحث و مباحثہ کو دیکھے تو کبھی دوسرے اورکبھی تیسرےدرجہ پر پہنچ کرحیرت زدہ شخص کی طرح ہوجاتاہےجسےحرکت کرنے کا خیال رہتا ہےنہ طاقت کا احساس کیونکہ اب وہ حرکت و طاقت موجود ہی نہ رہی کہ اس کی حرکت اور طاقت وکیل کے اشارہ پر عدالت آنے اور اس کے طریقہ کار کے مطابق کاغذات لانے پر تھی جو اب ختم ہوچکی ہے، اب صرف دل کا اطمینان اور وکیل پر اعتماد باقی رہ گیاہے اور اس فیصلہ کاانتظار جوہونے والا ہے۔
جب تم اس مثال میں غوروفکر کروگے تو توکل کے بارے میں ہر قسم کا شک وشبہ تم سے دور ہوجائے گا اور تم سمجھ جاؤگے کہ ہرقسم کا تعلق اور رابطہ چھوڑ دینا توکل کی شرط نہیں ہے اور یہ بھی سمجھ جاؤ گے کہ ہر قسم کا تعلق اور رابطہ رکھنا بھی درست نہیں بلکہ اس کی کئی قسمیں ہیں جن کی تفصیل اعمال کے بیان میں آئے گی۔ ”مُتَوَکِّلْ“ کا عدالت آنےاور کاغذات لانے میں حرکت وطاقت پر بھروسا کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے کیونکہ اسے معلوم ہےکہ اگر وکیل نہ ہوتا تو اس کا آنا اورکاغذات لانا بےکار اورخواہ مخواہ کی تھکاوٹ ہے۔ ”مُتَوَکِّلْ“ کو فائدہ اپنی حرکت اور طاقت کی وجہ سے نہیں پہنچتا بلکہ وکیل کی وجہ سے پہنچتاہےجو اس کے مقدمہ میں حاضر ہونے کولازمی قرار دیتاہےاور وہ وکیل کے اشارے اور طریقہ کار کوجان لیتاہے۔
معلوم ہوا کہ حرکت وطاقت کاسبب وکیل بنتاہے،البتہ وکیل پر اس کا اطلاق حقیقی نہیں ہے کیونکہ وکیل نہ حرکت کوپیداکرتاہےنہ طاقت کو بلکہ ان دونوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئےانہیں فائدہ مند بناتا ہے