چندسُوالات و جوابات:
٭…سوال:ان درجات کا وجود کہیں پایابھی جاتاہے؟
٭…جواب: ان کا وجود ناممکن نہیں ہےالبتہ پایاکم جاتاہے، دوسرا اورتیسرا درجہ تو بہت ہی کم پایاجاتاہے جبکہ پہلا درجہ قدرِ آسان ہے،اگردوسرا اور تیسرا درجہ پایا بھی جائےتو ان کا باقی رہنا بڑا مشکل ہے بلکہ تیسرا درجہ تو شاید اتنی دیرتک رہے جتنی دیر خوف سےپیدا ہونے والاپیلاپَن رہتاہےکیونکہ دل کا طاقت اور اسباب پائے جانے پر خوش ہونا طبعی معاملہ ہےجبکہ طاقت اور اسباب کا کم ہونا عارضی معاملہ ہے جس طرح خون کا پورے بدن میں گردش کرنا طبعی معاملہ اور رُک جانا عارضی معاملہ ہےاورخوف میں چہرے کی ظاہری کھال سے خون اندر ونی کھال کی طرف سمٹتا ہےیہاں تک کہ ظاہری کھال کی باریک جھلی کے پیچھے نظر آنے والی سرخی ختم ہوجاتی ہےکیو نکہ کھال ایک باریک جھلی ہے جس کے پیچھے خون کی سرخی نظر آتی ہے،یہ سمٹتی ہے تو پیلاپن آجاتاہےجو کہ کچھ ہی دیر رہتا ہے،ایسے ہی دل کا طاقت اور دیگر ظاہری اسباب کو نہ دیکھنا بھی عارضی معاملہ ہے۔ دوسرادرجہ بخارکے پیلے پن کی طرح ہےجوکہ ایک دو دن تک رہتا ہے جبکہ پہلادرجہ اس بیمار کے پیلے پن کی طرح ہے جس کا مرض جَڑ پکڑ چکا ہو،جس کا پیلاپن دور ہونامشکل ہو۔
٭…سوال:ان درجات پر فائز ہونے والوں کےساتھ بھی کیا اسباب کا تعلق اور رابطہ باقی رہتاہے؟
٭…جواب: جان لیجئے! تیسرے درجہ کی حالت جب تک باقی رہتی ہےاسباب کے ساتھ رابطہ بالکل نہیں پایا جاتا بلکہ ”مُتَوَکِّلْ“ حیرت زدہ رہتاہے۔دوسرے درجہ کی حالت میں سوائےبارگاہِ الٰہی میں فریاد کرنے اور سوال کرنےکے اسباب کےساتھ کسی قسم کا رابطہ نہیں پایا جاتاجیسےبچے کارابطہ صرف اپنی ماں کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ پہلے درجہ کی حالت میں رابطہ اور اختیارباقی رہتا ہے لیکن بعض چیزوں کے ساتھ تعلق نہیں بھی پایا جاتا جیسے کوئی شخص وکیل سے اپنے مقدمہ کی حد تک تعلق رکھتا ہے اس کے علاوہ تعلق نہیں رکھتا، البتہ وکیل کسی بات کا اشارہ کردے تو اس سے بھی تعلق رکھتاہے یاپھرواضح اشارہ نہ ہوتو وکیل کی عادت اور طریقہ کار کو پہچان کراس بات سے تعلق رکھے گا جیسے وکیل اس بات کا اشارہ کرےکہ میں تمہاری غیرحاضری میں مقدمہ نہیں لڑوں گا تواب یقیناً اسے آنا پڑےگا اوریہ بات وکیل پر اعتما دکے خلاف بھی نہیں کیونکہ وکیل اس سے