تو کل کےان دونوں درجات میں فرق یہ ہے کہ دوسرے درجہ کا ”مُتَوَکِّلْ“ اپنے توکل میں فنا ہوجاتاہے کیونکہ اس کا دل توکل اوراس کی حقیقت کی جانب بالکل متوجّہ نہیں ہوتابلکہ فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب متوجّہ رہتا ہے،غیر کی جانب توجّہ کرنے کی گنجائش باقی ہی نہیں رہتی جبکہ پہلے درجے والا ”مُتَوَکِّلْ“ کوشش اور زبردستی کرتاہے،یہ اپنے توکل میں فانی نہیں ہوتاکیونکہ اس کی توجّہ اور احساس کا مرکز توکل ہوتاہےاور یہی چیز اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب توجّہ سے رُوکتی ہے۔ یہی بات حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے فرمان سے معلوم ہوتی ہےکہ آپ سے کسی نے پوچھا:”توکل کاہلکا درجہ کیا ہے؟“ فرمایا:”خواہشات کو چھوڑنا۔“پوچھا:درمیانہ درجہ کیا ہے؟“ فرمایا:”اختیار ات چھوڑ دینا۔“ یعنی دوسرے درجہ کی جانب اشارہ فرمایا۔ سائل نے پھر پوچھا:”توکل کا بلند درجہ کیا ہے؟“ فرمایا:”اس کی پہچان درمیانی درجہ والا ہی رکھتا ہے۔“
٭…تیسرا درجہ: یہ سب سے بلند درجہ ہے یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے بندہ کی حالت ایسی ہوجیسے غسل دینے والے کے سامنے مردہ ہوتا ہے۔ان دونوں میں صرف اتنا فرق ہے کہ ”مُتَوَکِّلْ“ اپنے آپ کو مردہ دیکھتا ہے کہ قدرتِ اَزَلِیَّہ اسے حرکت دیتی ہےجس طرح غسل دینے والامردے کوحرکت دیتاہےنیز اس بات پر اس کا یقین پختہ ہوتاہے کہ حرکت،علم،ارادہ،قدرت اور سارے معاملات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے ہیں اور یہ سب معاملات زبردستی ہیں لہٰذاوہ اپنے اوپرنافذ ہونے والے احکامات کا انتظار نہیں کرتا۔
اس درجہ کے ”مُتَوَکِّلْ‘‘ کا معاملہ اس بچے کا سا نہیں جو اپنی ماں کی گود میں آتاہے،اسی کو پکارتا ہے،اسی کے دامن سے لپٹتا ہےاوراسی کے پیچھے دوڑتاہے بلکہ اس کا معاملہ اس بچہ کی طرح ہے جو جانتاہے کہ وہ نہ روئے تو بھی ماں اسے ڈھونڈ لے گی،دامن سے نہ لپٹےتو بھی ماں اسے اُٹھالے گی،دودھ نہ مانگے تو بھی ماں خود پہل کرے گی اور اسے دوھ پلادے گی۔توکل کا یہ مقام تقاضا کرتا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل و کرم اور عنایت پر بھروسا کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے کچھ مانگا جائےنہ دعا کی جائےکیونکہ جو چیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ عطا فرمائے گا وہ مانگی ہوئی چیز سے بہتر ہوگی اور وہ کئی نعمتیں دعاکرنے، سوال کرنےاور ضرورت پڑنے سے پہلے ہی عطا فرما دیتا ہے جبکہ دوسرا مقام دعا چھوڑنے اور سوال سے بچنے کا تقاضانہیں کرتا بلکہ صرف یہ تقاضا کرتاہے کہ دوسرے سے سوال نہ کیا جائے۔
( صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد )