جب یقین و اطمینان کےاسباب پائے جائیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اعتماد حاصل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ توریت شریف میں ہے:”ملعون ہے وہ شخص جو اپنے جیسے انسان پر بھروسا کرے۔“
حضورسیِّدعالَم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہے:جو بندوں سے عزت کا طَلَب گار ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ذلیل کردے گا ۔(1)
جب تم پر توکل کے معنیٰ کی وضاحت ہوگئی اور تم نے اس کیفیت کو جان لیا جسے توکل کہا جاتاہےتو اب یہ بھی جان لو کہ مضبوطی و کمزوری کے اعتبارسے اس کیفیت کے تین درجات ہیں۔
توکل کے تین درجات:
٭…پہلا درجہ: وہی ہے جسے ہم نے بیان کیا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم پر بندے کا بھروسا اور اعتماد ایسا ہی ہو جیسےکسی وکیل پر ہوتاہے۔
٭…دوسرا درجہ: یہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم پربندےکا حال اس طرح ہو جیسے بچے کا حال اپنی ماں کےساتھ ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کو پہچانتا ہے نہ کسی دوسرے کی گود میں آتا ہے اور نہ کسی دوسرے پر بھروسا کرتاہےاورجب ماں کو دیکھتاہے تو فوراً اس کے دامن سے لپٹ جاتا ہے اور جدا نہیں ہوتا۔ اگر ماں کی غیر موجودگی میں کوئی پریشانی آجائے تو سب سے پہلے ماں کو پکارتاہے اوردل میں سب سے پہلا خیال ماں کا ہوتا ہےکہ وہی اس کی فریاد سننے والی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کو ماں کی ذمہ داری اور شفقت پر ایسا اعتمادہوتاہے جسےوہ اپنی سمجھ سے خود جان لیتاہے بلکہ یہ گمان کیاجاسکتاہے کہ اعتماد اس کی طبیعت بن جاتا ہے۔ اگر اس سے ان باتوں کی وضاحت پوچھی جائے توانہیں الفاظ کی صورت میں نہ توبیان کرسکتا ہے نہ ہی اس کی تفصیل اپنے ذہن میں لاسکتا ہے کیونکہ یہ سب باتیں اس کی سمجھ سے بالاتَر ہیں،لہٰذا جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب توجّہ کرے،اسی کی طرف دیکھےاوراسی پر اعتماد کرے تو اس کی رغبت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب اس طرح ہوجائے گی جس طرح بچے کی رغبت اپنی ماں کی جانب ہوتی ہے،اب یہ شخص حقیقی ”مُتَوَکِّلْ“ ہوجائے گا کیونکہ بچّہ اپنی ماں پر ہی توکل کرتاہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…نوادر الاصول للحکیم الترمذی، الاصل التاسع الثمانون والمائة، ۲/ ۷۱۳، حدیث:۹۸۲