حشر سے پہلے نہیں اٹھائے گا جس طرح قدرت کے باوجود قلم کو سانپ نہیں بناتااوربلی کو شیر نہیں بناتا۔اس یقین کے باوجود طبیعت ناپسند کرے گی کہ میّت کے پہلو میں ایک بستر پر ہویا کسی کمرے میں ہو کیونکہ بےجان چیزوں کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں کیا جاتا۔ یہ دل کی بزدلی ہےجو کہ کمزوری کی ایک قسم ہےاورانسان میں کچھ نہ کچھ ضرورپائی جاتی ہے، کبھی یہ خوف بڑھ کر بیماری کی صورت اختیار کرلیتاہےکہ دروازے کھڑکیاں بند ہونے کے باوجود اکیلے گھر میں رات گزارنےمیں ڈرتالگتا ہے۔ایسے ہی توکل مضبوط دل اور مضبوط یقین کے بغیر مکمل نہیں ہوگاکیونکہ انہیں دونوں کی وجہ سے دل میں اطمینان و سکون پیدا ہوتاہے۔
اطمینان اور یقین میں فرق:
اطمینان اور یقین دوالگ الگ کیفیات ہیں،کئی جگہ یقین پایا جاتاہے لیکن اطمینان نہیں جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ارشاد فرمایا:
اَوَلَمْ تُؤْمِنۡؕ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیۡؕ (پ۳،البقرة:۲۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا تجھے یقین نہیں عرض کی یقین کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجائے۔
حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نےاپنی آنکھوں سے مُردے زندہ ہوتے ہوئے دیکھنے کی دعا کی تاکہ خیال پختہ ہوجائے کیونکہ دل خیال کی پیروی کرتاہےاور اسی سے مطمئن ہوتاہے۔معاملہ کی ابتدا میں فقط یقین سے دل مطمئن نہیں ہوتا حتّٰی کہ اطمینان کے آخری درجہ تک پہنچ جائے اور یہ اطمینان کبھی بھی ابتدا میں حاصل نہیں ہوتا۔یونہی کئی جگہ اطمینان پایاجاتا ہےلیکن یقین نہیں جیسےکسی یہودی یا نصرانی کا دل یہودیت یا نَصْرانِیَّت پر مطمئن ہوتا ہے لیکن اسے یقین حاصل نہیں ہوتا کیونکہ یہ لوگ اپنے گمان اورنفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں،ربّ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے ان کے پاس ہدایت آئی لیکن انہوں نے اس سے منہ پھیرلیا حالانکہ یہی ہدایت یقین کا سبب ہے۔
٭…دوسرا سبب: بہادری اور بزدلی دونوں کا تعلق فطر ت سے ہے اور بزدلی کے ہوتے ہوئے یقین کوئی فائدہ نہیں دیتا لہٰذا توکل میں رکاوٹ کا ایک سبب بُزدلی ہے جس طرح مذکورہ چار باتوں پریقین کی کمی توکل میں رکاوٹ کا ایک سبب ہے۔