مال کمانے میں حلال و حرام کا خیال نہ رکھےتو یوں بیٹے کوانتہائی درجہ کی شفقت ومہربانی کا یقین ہوجائے گا جوکہ چار باتوں میں سے ایک بات ہے، یونہی تینوں باتوں پر بھی یقین آسکتاہے کہ باپ تجربہ کار ہو اور لوگوں میں مشہور ہو کہ وہ عمدہ گفتگو اور بہترین وضاحت کرنے پر قادر ہےنیزسچی بات پر مدد کرنے کی طاقت رکھتا ہے بلکہ سچ کو جھوٹ اورجھوٹ کو سچ کہہ سکتاہے۔
جب مذکورہ مثال میں تم نے توکُّل کو پہچان لیاہے تو اب اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل کرنے کو اسی پر قیاس کرو، جب تمہارے دل میں کشف یا یقین کے ذریعہ یہ بات پختہ ہوجائے کہ فاعل حقیقی صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے جیساکہ پیچھے گزر اہےاور یہ عقیدہ بھی ہو کہ بندوں کے کام سنوارنے پر اسے مکمل علم و قدرت ہےنیز اس کا لطف و کرم اور رحم تمام بندوں پراِجْتماعی اعتبار سےاورہر ایک بندہ پرانفرادی اعتبار سے ہے، اس کی قدرت سے بڑھ کر کوئی قدرت نہیں اوراس کے علم سے زیادہ کسی کا علم نہیں ،تمہارے ساتھ اس کا لطف وکرم اور مہربانی بےحساب ہے، اس اعتقاد کے بعد یقیناً تمہارا دل ایک اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی پر بھروسا کرےگا، نہ تودوسرے کی جانب توجّہ کرے گااور نہ ہی اپنی طاقت و قوت اور ذات کی جانب توجّہ کرے گا کیونکہ گناہ سے بچنےکی طاقت اور نیکی کرنےکی قوت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہےجیساکہ توحید کی حقیقت بیان کرتے ہوئے حرکت اور قدرت کی بحث میں گزرا۔ ”لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ اِلَّابِاللہ“میں ’’حَوْلٌ‘‘سے مراد حرکت ہے اور’’قُوَّةٌ‘‘سے مراد حرکت پر قادر ہونا ہے۔
اگر تمہارے دل میں یہ کیفیت پیدا نہ ہو تو ایسا دو سببوں میں سے ایک سبب کی وجہ سے ہوتا ہے۔
توکل نہ ہونے کےدو اسباب:
٭…پہلا سبب: چاروں باتوں میں سے کسی ایک پر یقین کامل نہیں یا دل کمزور ہےاور اس پر بزدلی کے مرض کا غَلَبَہ ہے اور وہم کے غلبہ کی وجہ سے بےچینی رہتی ہے کیونکہ بعض اوقات دل کی بے چینی وہم کی وجہ سے ہوتی ہےاگرچہ یقین میں کچھ کمی نہ ہو جیسے شہد کھانے والے کے سامنے شہد کو گندگی سے تشبیہ دی جائے تو بعض اوقات اسے شہد سےگِھن آتی ہے اور اسے شہد کھانادشوار ہوجاتاہے،ایسے ہی کسی سمجھدار کومُردہ کے ساتھ قبر یاکمرہ یاایک بستر پر رات گزارنے کاپابند کیا جائےتو وہ راضی نہ ہوگا اگرچہ اسے یقین ہے کہ یہ مردہ ہے اور اس وقت بے جان ہےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ قادر ہونے کے باوجود اپنے جاری کردہ قانون کے مطابق اسے