Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
78 - 882
	اس طرح کہ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے غیر کو مکمل طور پر چھوڑدے۔
(2)... اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوۡا (پ۲۴،حم السجدة:۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے۔
صراطِ مستقیم پر اِستقامت:
	جس صراطِ مستقیم پر استقامت کے بغیر توحید کامل نہیں ہوتی جب  وہ پل صراط کی مثل بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے توپھر کوئی بھی انسان استقامت سے کچھ نہ کچھ دوری سے بچ نہیں سکتااگرچہ کسی چھوٹے معاملے میں ہو کیونکہ وہ خواہش کی پیروی سے خالی نہیں ہوتا اگرچہ کم ہی ہو اور یہ بات کمالِ توحید کو اتناہی نقصان پہنچاتی ہے جتناکہ بندہ صراط مستقیم سے دور ہو،لہٰذا اس سے قُرب کے دَرَجات میں لامُحالَہ کمی آتی ہے اور پھر ہر نقصان کے ساتھ دو قسم کی آگ ہے:(۱)…کمی کے سبب ضائع ہونے والے کمال سے جدائی کی آگ (۲)…قرآنِ کریم کے بیان کے مطابق دوزخ کی آگ۔
	لہٰذا صراطِ مستقیم سے ہٹنے والا ہر شخص دو وجہوں سے دوہرے عذاب کا شکار ہوتا ہے مگر اس عذاب وسزا کی سختی، اس کی نرمی اور اس کا فرق وتفاوت مدت کی طوالت کے لحاظ سے ہوتا ہے اور ایسا دو باتوں کے سبب ہوتا ہے:(۱)ایمان کا قوی اور ضعیف ہونا (۲)خواہشات کی پیروی کا کثیر یا قلیل ہونا۔کیونکہ عام طور پر کوئی بھی انسان ان دو باتوں میں سے کسی ایک سے خالی نہیں ہوتا۔
بزرگانِ دین کاخوف خدا:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفرماتاہے: وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ﴿ۚ۷۱﴾ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡہَا جِثِیًّا ﴿۷۲﴾ (پ۱۶،مریم:۷۱، ۷۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گذر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے پھر ہم ڈر والوں کو بچالیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑدیں گے گھٹنوں کے بل گرے۔