Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
779 - 882
 قصوروار جانےیعنی وکیل پر دلی اعتماد ہو تو اسے توکل کہتے ہیں۔
وکالت کی شرائط:
	عدالتی معاملے میں وکیل کی مثال لیجئے:ایک شخص دوسرے پر جھوٹا الزام لگائےتودوسرا شخص اس اِلزام کو دور کرنےکےلئے کسی کو اپنا وکیل بناتاہےلیکن اپنا معاملہ وکیل کےسِپُرد کرنے،اس پر بھروسا کرنے اور اس کی وکالت پردل مطمئن کرنے کے لئےوکیل میں چارباتوں کاہوناضروری ہے:(۱)…انتہائی درجہ کا سمجھدار ہو (۲)…طاقتور ہو (۳)…عمدہ گفتگو کرنے والا ہو اور (۴)…مہربان ہو۔سمجھدار ہونےکی وجہ سے جھوٹا الزام  پہچان لے گا یہاں تک کہ الزام کے ہر باریک پہلو کو جان لے گا۔طاقتور ہونےکی وجہ سے حق بات خوداعتمادی سے کرے گا  کسی کی چاپلوسی کرےگا نہ شرمائے گا ،کسی سے ڈرے گانہ بزدلی دکھائے گاکیونکہ وکیل بعض اوقات دشمن کی کوئی بات جان لیتاہےاورپھرخوف وبزدلی اورشرم یاپھردل کو کمزور کردینے والی کوئی چیز اسے حق بات کہنے سے روک دیتی ہے۔عمدہ گفتگو کرنا بھی ایک طرح کی طاقت ہےکیونکہ دل جو بات کہنا چاہے اور اس کی طرف اشارہ کرےتوزبان اسے روانی کے ساتھ ادا کرنے پر قادر ہوتی ہے اور جھوٹے الزامات کو پہچان لینے والا ہرشخص اس کی دھجیاں بکھیرنے پر قادر نہیں ہوتا۔انتہائی  درجہ کا مہربان ہونےکی وجہ سے مَؤکِّل کےحق میں جتنی کوشش کرسکتاہے کرےگا کیونکہ جب تک وہ اس کے مُعاملہ کو اہمیت نہ دے اور اس بات کی پروا نہ کرے کہ مُؤکِّل جیتے یا ہارے نیزاس کا حق اسے ملتا ہے یا ضائع ہوتاہےتو اس مہربانی کے بغیر اس کی طاقت کا کوئی فائدہ نہیں۔اگر (وکیل میں)یہ چار وں باتیں نہ ہوں یا کوئی ایک بات نہ ہو یا یہ چاروں باتیں مَدِّمقابِل میں کامل طور پر پائی جائیں تو وکیل بنانے پر دل مطمئن نہیں ہوتا بلکہ بے قرار رہتا ہے اور بندہ وکیل کی کمزوری ومدمقابل کے خوف کودور کرنے کی کوشش میں لگارہتاہےچونکہ اطمینان و بھروسے کے معاملے میں لوگوں کی حالتیں مختلف  ہوتی ہیں اورانہیں کے مطابق لوگوں کے اطمینان و بھروسے میں زیادتی پائی جاتی ہے۔ جب اِعتقاد اور گمان کےدرمیان  کمزور اور مضبوط ہونےمیں اتنا فرق ہے جسے شمار نہیں کیا جاسکتا تو لازمی طور پر توکل کرنے والوں کے اطمینان و بھروسے میں بھی اتنا فرق ہوگا جسے شمار نہیں کیا جاسکتا یہاں تک کہ وہ یقین حاصل ہوجائے جس میں کسی قسم کی کمزوری نہ ہو،جس طرح اگر بیٹامُؤکِّل اور  باپ  وکیل ہو اور وہ  بیٹے کے لئے