Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
778 - 882
	خلاصہ یہ کہ اچھائی و برائی سب اسی کا فیصلہ ہے اور جس چیز کا فیصلہ ہوجائے اِرادۂ الٰہی کے بعد اس کا وجود لازمی ہوجاتاہےاس کے فیصلہ اور حکم کا کوئی انکارکر سکتا ہے نہ ٹال سکتاہے بلکہ ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے اور ایک معیَّن اندازے کے ساتھ وہ آئے گی جس کا انتظار ہے۔ جس چیزکا تم تک پہنچنالکھا  ہے ایسا نہیں کہ وہ تم تک نہ پہنچے اورجس چیز کا تم تک نہ پہنچنالکھا ہے ایسا نہیں کہ وہ تم تک پہنچ جائے۔
	توکل کی بنیاد عِلْمِ مُکاشَفہ کے بارےمیں اتنے ہی اشارے کافی ہیں اوراب ہم دوبارہ علم معاملہ کی گفتگو شروع کرتے ہیں۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں کافی ہےاوروہ کیاہی اچھا کارساز  ہے۔
باب نمبر2:	   تَوَکُّل کی وضاحت اور اس پر عَمَل کا طریقہ
	ہم اس باب میں (چھ  فصلوں کے تحت) درج ذیل اُمور بیان کریں گے:
	(۱)…توکل کی وضاحت (۲)…اکابِرین کے نزدیک توکل کی تعریف (۳)…شادی شدہ اورغیرشادی شدہ فرد کا مال کمانے میں توکل کرنا (۴)…ذخیرہ اندازی کو چھوڑ کر توکل کرنا (۵)…نقصان دہ چیزوں کو دور کرکے توکل کرنا (۶)…علاج کے ذریعہ بیماری دور کرکے توکل کرنا۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنی رحمت کےصدقے ان اُمورکو بیان کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
پہلی فصل:				تَوَکُّل کی وضاحت
	ہم پیچھے ذکر کرچکے ہیں کہ توکل تین چیزوں پر مشتمل ہوتاہےعلم،کیفیت اورعمل۔علم کی گفتگو مکمل ہوچکی ہےاب کیفیت کی وضاحت ہوگی۔توکل اس کیفیت کو کہتے ہیں جس کی بنیاد ”علم“ اور پھل ”عمل“ ہے۔  اہل علم نے اس کی کثیراور مختلف  تعریفات بیان کی ہیں۔ ہرایک نے اپنے مقام ومرتبہ کے اعتبار سے اس کی وضاحت کی ہےجیسا کہ اہْلِ تصوُّف کا طریقہ ہےلہٰذاانہیں لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، البتہ ہم اس کی وضاحت کرتےہوئے کہتے ہیں:توکل ’’وَکَالَةٌ‘‘سے بناہےجیسے کہا جاتا ہے:”وَکَلَ اَمْرَہٗ اِلٰی فُلَانٍ یعنی ایک شخص نے  اپنا معاملہ فلاں  کے سپرد کردیا اور اس پر بھروسا کرلیا۔“
	مُعاملہ جس کے سپرد کیا جائے اسے”وکیل“ کہتےہیں اورمعاملہ سپرد کرنے والے  کو ”مُتَوَکِّلْ“ کہتے ہیں۔ جب ”متوکل“  کا ”وکیل“ پراطمینان اور بھروسا ہو، کام میں کوتاہی کی تہمت لگائے نہ ہی اسے عاجز اور