Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
777 - 882
فرمائے  اسے روک نہیں سکتابلکہ اگروہ لوگ زمین وآسمان کی کسی چیز کی جانب دیکھیں اورغور وفکر کریں تو پھربھی اس میں خرابی پائیں گے نہ کمی بلکہ دیکھیں گےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےاپنے  بندوں میں موت  ورزق، خوشی وغم،کمزوری وطاقت، کفر و ایمان ،اطاعت و نافرمانی کی جو تقسیم کاری فرمائی ہے وہ خالص انصاف  ہے جس میں کسی قسم کاظلم نہیں، تقسیم کاری بالکل درست ہے جس میں کسی قسم کی کمی نہیں  بلکہ جس طرح ہونا چاہئے تھا اسی لازمی و ضروری ترتیب پر ہے نیز جس مقدار میں ہونا چاہئے تھا اسی مقدار پر ہے ،اس سے اچھا،بہتر اور کامل ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔ اگر(فرض کریں کہ )اس سے بہتر ممکن تھا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے قدرت  کے باوجود عطانہ فرمایا تو یہ بخل ہوا جو کہ سخاوت کی ضد ہےنیز ظلم ہوا جو کہ انصاف کی ضد ہےاوراگر اسے قادر نہ مانا تو یہ عجز ہوا جوکہ مقام الٰہی کے خلاف ہےبلکہ جو کام دنیوی اعتبار سے نقصان دہ ہےوہ اُخروی اعتبار سے فائدہ مند ہے،یونہی ایک شخص کا اُخروی نقصان دوسرے کے حق میں نعمت ہے کیونکہ اگر رات نہ ہوتی تو دن کی اہمیت نہ ہوتی ،اگر بیماری نہ ہوتی تو تندرست کو صحت کی اہمیت نہ ہوتی ،اگر جہنم نہ ہوتا تو جنتیوں کو جنتی نعمتوں کی اہمیت نہ ہوتی۔ جس طرح جانوروں کو قربان کرکے انسانی زندگی کو بچانا اور انسان کو جانورذبح کرنے پر غَلَبَہ دینا انصاف ہے اسی طرح جہنمیوں کو سخت سزائیں دے کر جنتیوں کی نعمتوں میں اضافہ کرنا اور کافروں کے بدلے مؤمنوں کو بچانا انصاف ہےکیونکہ جب تک ناقص نہ ہوگا کامل کی پہچان نہ ہوگی، یونہی اگر جانور نہ ہوتے تو انسان کاافضل ہونا ظاہر نہ ہوتا کیونکہ نَقْص اور کمال کسی چیز کی طرف نسبت کرنےسے ہی ظاہر ہوتے ہیں لہٰذا سخاوت وحکمت کا تقاضا یہی تھا کہ ناقص اور کامل دونوں کو پیدا کیاجائے جس طرح ہاتھ پر کینسر ہوجائے تو اسے کاٹ دینا انصاف ہے کہ یہاں ناقص کے بدلے میں کامل کو بچانا ہےیہی معاملہ اس فرق کا ہے جو دنیا وآخرت کی تقسیم کاری میں مخلوق کے درمیان ہےکہ ہر چیز انصاف کے ساتھ ہے،کسی قسم کا ظلم نہیں اورہرچیز بَرحَق ہے بلاوجہ نہیں۔ اس کی وضاحت ایک گہرا سمندر ہے جس کے کنارے بہت دور ہیں اورموجوں میں طغیانی ہے جبکہ گہرائی توحید کے سمندر کے قریب ہےجس میں کم عقل لوگ گہرائی کا اندازہ نہیں کرپاتے اور ڈوب جاتے ہیں، صرف عُلَما اس کا اندازہ کرپاتےہیں نیزاس سمندرکے پیچھے تقدیر کا راز ہے جس سے اکثر لوگ ناواقف ہیں اوراہل کشف کو اس کاراز ظاہر کرنےسے روک دیا گیا ہے۔