Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
776 - 882
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	مذکورہ گفتگو سے یہ بات ظاہرہوتی ہےکہ سارے معاملات میں بندہ (اپنے اختیارمیں )مجبور ہےنیزایسی صورت میں سزا وجزا کا  کیا مطلب ہے؟ ناراض و خوش ہونے کا کیا مطلب ہے؟اپنے ہی کام پر کوئی کس طرح ناراض ہوسکتاہے؟
	جواب:ہم نے شکر کے بیان میں اس کا جواب اشارۃ ً ذکر کردیا ہےجسےدوبارہ بیان کی ضرورت نہیں ۔ ہم نے توحید کے بارے میں جتنی گفتگو کی ہے یہ وہ مقدار ہے جس سے توکل حاصل ہوتاہےنیزتوکل رحمت و حکمت پر ایمان لائے بغیر مکمل نہیں ہوتا کیونکہ توحید مُسبِّبُ الاَسباب کی جانب متوجّہ کرتی ہےجبکہ رحمت پر ایمان لانا اس کی رحمت کو وسیع جاننا ہے جو کہ مُسبِّبُ الاَسباب پر اعتماد پیدا کرتاہے۔عنقریب ا س کی وضاحت آئے گی کہ توکل اُس وقت کامل ہوگاجب وکیل پر اعتمادہواور کفیل کی مہربانی پر دل مطمئن ہو۔
	رحمت  وحکمت پر ایمان لاناایمان کاایک بہت بڑا درجہ ہےجسے اہل کشف کے مطابق بیان کرنے میں طویل بحث کا آغاز ہوجائے گالہٰذا ہم یہاں خلاصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ توکل کے طلبگار کا یقین کامل ہوجائے۔
رحمت و حکمت پر ایمان لانا:
	رحمت و حکمت کی تصدیق اتنی یقینی ہو کہ اس میں لچک ہو نہ ہی شک یہاں تک کہ اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمام مخلوق کو سب سے بڑے عقل مندکی عقل عطافرمائے،سب سے بڑے عالِم کا علم عطافرمائےاوراتنا علم عطا فرمائےجتنا وہ برداشت کرسکیں پھربے انتہا حکمت عطافرمائےاورپھر ان کی تعداد کے برابر علم و حکمت اور عقل میں مزید اضافہ فرمائےاس کے بعد ہر چیز کا نتیجہ اورعالَم کے راز ان پر ظاہر فرمادے،ہلکی سے ہلکی سزا اور باریک سے باریک لطف و کرم کی پہچان کروادےحتّٰی  کہ وہ ہر قسم کی اچھائی وبرائی ،نفع و نقصان جان لیں پھر حکم ارشاد فرمائے کہ جو علم و حکمت میں نے تمہیں دیا ہے اس سے دو جہاں کا نظام چلاؤ،ایسی صورت میں مخلوق کےباہمی تعاون سے چلایا ہوادنیا وآخرت کانظام اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےتخلیق کردہ نظام میں مچھر کے پَر برابر زیادتی کرسکتا ہےنہ کمی اورایک ذرّہ اوپرکرسکتاہےنہ نیچے۔جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بیماری یا عیب یا کمی یا محتاجی یا نقصان میں مبتلا فرمائے اسے دور نہیں کرسکتا،ایسے ہی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  جس پر صحت یا  مالداری یا فائد ہ کا انعام