Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
775 - 882
 تمام کاموں کی نسبت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے غیر کی طرف کرے وہ مَجازی معنیٰ مرادلینے والاہے،جس طرح حقیقی معنیٰ لینے کی کوئی وجہ ہوتی ہے ایسے ہی مَجازی معنیٰ لینے کی بھی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔اہْلِ زبان  نے’’فاعل“ کا لفظ مُوْجِد(ایجاد کرنے والے)کےلئےبنایالیکن انہیں یہ گمان ہوا کہ انسان چونکہ اپنی طاقت سے ایجاد کرتاہے لہٰذا ا سے فاعل کہاجائے،انہوں نے انسان کوفاعل حقیقی گمان کیا  اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو فاعل مجازی گمان کیا جس طرح قتل کی نسبت حاکم کی طرف کرنا مجازی ہےاور جَلّاد کی طرف کرنا حقیقی ہےلیکن جب یہ مفہوم اہْلِ حق پر واضح ہوا تو انہوں نے جان لیا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے،لہٰذاانہوں نے اہْلِ زبان سے کہا:”تم نے فاعل کا لفظ مُوْجِد کے لئے بنایاہےاور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کوئی فاعل نہیں ہے،لہٰذااللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو فاعل کہنا حقیقت ہےاور دوسرے کوفاعل کہنامَجاز ہے۔“ یعنی اہْلِ زبان نے جس معنیٰ کے لئے لفظ بنایااسے چھوڑ کر دوسرے معنیٰ میں استعمال کرنا۔اسی وجہ سےجب بعض اہل عرب کی زبان سے قصداً یا اتفاقاً حقیقی معنیٰ ظاہر ہوئے توحضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس  کی تصدیق کی اور ارشاد فرمایا:شاعروں میں سب سے سچا مصرعہ لَبِیْد کا ہے:
اَلَا کُلُّ شَیْءٍ مَا خَلَا اللہ بَاطِلُ
	ترجمہ:جان لو!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا ہر چیز فناہونے والی ہے۔(1)
	یعنی جس کا وجود خود بخود نہ ہووہ دوسرے کی محتاج ہوتی ہے لہٰذا ایسی چیز ذاتی اعتبار سےفانی ہےکیونکہ اس کی حقیقت وماہِیَّت دوسرے کےسہارےقائم ہے خود نہیں۔
	حقیقت کی  حقدار صرف ایک ہی ذات ہوئی   جس کی مثل کوئی چیز نہیں،وہ خود قائم ہے،اس کے علاوہ ہر چیز  اس کی قدرت سے قائم ہے، وہی برحق ذات ہے اس کے سوا سب کچھ فانی ہے۔اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :”اےپریشان حال شخص!وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ موجود تھا اور تم نہ تھے،وہ آئندہ بھی ہوگامگرتم نہ ہوگے،آج تمہارا وجودہےتومَیں مَیں کرتے ہو،تم اس طرح ہوجاؤ جیسے تمہارا وجود ہی نہ ہوکیونکہ وہ آج بھی موجود ہے جیسے کل موجود تھا۔“
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم، کتاب الشعر، ص۱۲۳۸، حدیث:۲۲۵۶