Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
774 - 882
 حق پہچان لیا۔“(1)
حقیقی اور مجازی معنیٰ:
	جوشخص  تمام کاموں کی نسبت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب کرتاہے وہ حق اور حقیقت کو پہچاننے والاہےاور جو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……رَسُوْلِہیعنی میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں۔(بخاری،کتاب البیوع، باب التجارة فيما يكره لبسه للرجال والنساء،۲/ ۲۱،حدیث:۲۱۰۵)مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  مراٰۃ المناجیح،جلد6،ص197پرحدیث پاک کے جز”اَ تُوْبُ اِلَی اللہ وَاِلٰی رَسُوْلِہ“کے تحت فرماتے ہیں:سُبْحٰنَ اللہ! کیسا ایمان افروز کلمہ ہے اس عرض معروض سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اللہ(عَزَّ  وَجَلَّ)کے ساتھ حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم)کا نام لینا بغیر فاصلہ کے بالکل جائز ہے۔ربّ تعالیٰ فرماتاہے: اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ ۚ (پ۱۰،التوبة:۷۴،ترجمۂ کنزالایمان:اللہورسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا۔)لہٰذایہ کہہ سکتے ہیں کہاللہ رسول بھلا کرے،اللہرسول کی بڑی مہربانی ہے۔دوسرے یہ کہ توبہ اوردوسری عبادات میںاللہ(عَزَّ  وَجَلَّ)کے ساتھ حضور(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کوراضی کرنے کی نیت کرنابالکل جائزہے۔ربّ تعالیٰ فرماتاہے: وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ (پ۱۰، التوبة:۶۲، ترجمۂ کنزالایمان: اوراللہ ورسول کاحق زائدتھاکہ اسے راضی کرتے۔)اورفرماتاہے: وَمَنۡ یَّخْرُجْ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ (پ۵، النسآء:۱۰۰، ترجمۂ کنزالایمان:اورجواپنے گھرسے نکلااللہورسول کی طرف ہجرت کرتا۔)صوفیا فرماتے ہیں کہ ہر گناہ میںاللہتعالیٰ کی بھی ناراضی ہوتی ہے اوررسولُاللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی بھی: عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ (پ۱۱،التوبة:۱۲۸،ترجمۂ کنزالایمان:جن پر تمہارا مشقت میں پڑناگراں ہے۔)ہرگناہ سے دو حق تلفیاں ہوتی ہیں لہٰذاہرگناہ کی توبہ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی کرے اور حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی بارگاہ میں بھی دونوں ذاتوں سے معافی چاہیے۔یہاں(صاحب)مرقات نے فرمایا کہ دوبارہ ”اِلٰی“فرمانے سے معلوم ہوا کہ دونوں ذاتوں کی طرف رجوع کرنامستقل ہے کوئی کسی کے تابع نہیں۔
	سیِّدِی اعلیٰ حضرت امام اہْلِ سُنَّت مولاناشاہ امام احمدرضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنرسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں توبہ کرنے کے متعلق دو احادیث مبارکہ ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:ان احادیث سے ثابت ہواکہ  صدیقہ وصدیق وفاروق وغیرہم اکتالیس صحابہ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْنے توبہ کرنے میںاللہ قَابِلُ التَّوْبجَلَّ جَلَا لُہٗکے نام پاک کے ساتھ اس کے نائِبِ اکبر نبِیُّ التَّوبہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کا نام پاک بھی ملایااورحضورپُرنورخَلِیْفَۃُاللہِالْاَعْظَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے قبول فرمایا حالانکہ توبہ بھی اصل حق حضرت عزتعَزَّجَلَالُہٗکاہے۔ولہٰذاحدیث میں ہے ایک قیدی گرفتار کر کے خدمت اقد س حضورسیِّدِعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّممیں لایاگیاوہ بولا:اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَ تُوْبُ اِلَیْکَ وَلَا اَ تُوْبُ اِلٰی مُحَمَّدٍالٰہی ! میری توبہ تیری طرف ہے،نہ محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی طرف۔حضوراقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا:عَرَفَ الْحَـقَّ لِاَھْلِہٖحق کو حق والے کےلئے پہچان لیا۔(فتاوی رضویہ مخرجہ،۳۰/ ۴۵۹)
…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث الاسود بن سریع، ۵/ ۳۰۳، حدیث:۱۵۵۸۷