اَوَ لَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۵۳﴾ (پ۲۵،حمٓ السجدة:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا تمہارے رب کا ہرچیز پر گواہ ہونا کافی نہیں۔
”مُحْیِی“ اور ”مُمِیت“:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنےدو وصف ”اَلْمُحْیِیْ یعنی زندہ کرنے والا“ اور ”اَلْمُمِیْتُ یعنی موت دینے والا“بیان فرمائے پھر انہیں دو فَرِشتوں کےسِپُرد فرمادیاجیساکہ حدیث پاک میں ہے:زندگی اورموت کےفَرِشے میں مُناظَرہ ہوا، موت کے فرشتے نے کہا:میں زندہ کو موت دیتاہوں۔زندگی کےفرشتے نے کہا:میں مردہ کو زندہ کرتا ہوں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان دونوں سے فرمایا :تم دونوں اپنا کام کرتے رہو میں نے تم دونوں کو اس کام کا پابند کردیا ہےاور میں ہی زندگی اور موت دینے والا ہوں اورمیرے علاوہ نہ کوئی زندہ کرنے والاہےنہ کوئی موت دینے والا۔(1)
جب تم اس بات کو سمجھ جاؤگے کہ فعل مختلف اعتبار سے استعمال ہوتاہےتواس طرح کے معنیٰ میں کوئی ٹکراؤ نہ رہے گا۔اسی وجہ سے نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کو کھجور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اسے لے لو!اگر تم اس کے پاس نہ آتے تو یہ تمہارے پاس آجاتی۔“(2)
یہ یقینی بات ہے کہ کھجور اس طرح نہیں آتی جس طرح انسان کھجور کی طرف آتاہے لیکن پھر بھی حضور نبیّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے’’آنے‘‘کی نسبت انسان اورکھجوردونوں کی طرف فرمائی۔ اسی طرح جب ایک شخص نے توبہ اس انداز پر کی کہ میں بارگاہِ الٰہی میں توبہ کرتاہوں نہ کہ حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں(3)۔ تورسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اس نے حقدار کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…قوت القلوب،شرح مقامات التوکل ووصف احوال المتوکلین،ذکراثبات الاسباب …الخ، ۲/ ۲۰
2…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الزکاة، باب ما جاء فی الحرص…الخ، ۵/ ۹۸، حدیث:۳۲۲۹
3… خیال رہے کہ ہمارے ہرگناہ میں حَقُّاللہ بھی ماراجاتا ہے اورحَقُّ الرَّسُوْلبھی لہٰذاہرگناہ کی معافی حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے مانگناجائز ہے کیونکہ ہمارے گناہ سے حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکوتکلیف ہوتی ہے۔نیزاللہورسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی بارگاہ میں توبہ کرنااحادیث سے بھی ثابت ہے۔چنانچہ مروی ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ عَنْہَانے ایک پردہ خریداجس میں تصویریں تھیں پھر جب اسے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اندر نہ آئے ۔میں نے چہرۂ انورمیں ناپسندیدگی کے آثار محسوس کئے تو عرض کی:یَارَسُوْلَ اللہِ اَتُوْبُ اِلَی اللہِ وَاِلَی…۔۔۔۔۔۔