Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
772 - 882
	ایک روایت میں ہے کہ فرشتہ صورت بناتاہےپھر اس میں سعادت یا شَقاوت کی روح پھونک دیتا ہے۔(1)
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں:ایک فرشتہ کو روح کہا جاتاہےاوریہی فرشتہ جسم میں روح ڈالتا ہے۔ یہ اپنے مخصوص انداز پر سانس لیتا ہےاورہر سانس روح بن کر جسم میں داخل ہوجاتی ہے،اسی وجہ سے اس کا نام  روح ہوگیا۔
	ان بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جو کچھ اس فرشتہ کے متعلق فرمایا بالکل درست ہے کہ اہْلِ کَشْف نورِ بصیرت سےاسے دیکھ لیتے ہیں۔بہرحال اس فرشتہ کو’’روح‘‘کہنے کا  ثبوت قرآن و حدیث سے ہی ممکن ہے ورنہ یہ محض تخمینہ ہے۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اپنی ربوبیت کی گواہی خود دی:
	اسی طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے قرآن پاک میں زمین وآسمان کی کئی نشانیاں اور دلائل ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
اَوَ لَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۵۳﴾ (پ۲۵،حمٓ السجدة:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا تمہارے رب کا ہرچیز پر گواہ ہونا کافی نہیں۔
	اور فرمایا: شَہِدَ اللہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۙ (۳،اٰل عمرٰن:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے یہاں  خود اپنے معبود ہونے کی گواہی ارشاد فرمائی،یہ آیت پچھلی آیت کے خلاف نہیں کیونکہ دلائل دینے کے انداز مختلف ہوتے ہیں لہٰذا کئی طَلَب گار مَوجُودات دیکھ کر مَعْرِفَتِ الٰہی حاصل کرتے ہیں اور کئی طَلَب گار مَعْرِفَتِ الٰہی حاصل کرکے مَوجُودات کی پہچان حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے ربّ کوربّ کے ذریعہ پہچانا،اگر میرا ربّ نہ ہوتا تو میں اپنے ربّ کو پہچان نہ پاتا۔یہی مفہوم اس آیتِ مُبارَکہ سے ثابت ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مسلم، کتاب القدر، باب کیفیة الخلق الادمی…الخ، ص۱۴۲۱، حدیث:۲۶۴۳