ہوئے ہیں اور ان پر بھی ترس کھاتا ہے جو اس کی تاویل کی راہوں میں بھٹک رہے ہیں (اور حدوں کو پار کرگئے ہیں) اگرچہ تاویل میں بھٹکنے والوں کے مقابلے میں ظاہری لفظ پر جمنے والے زیادہ قابِل رحم ہیں کیونکہ رحمت مصیبت کے مطابق ہوتی ہے اور اِن کی مصیبت زیادہ ہے اگرچہ معاملے کی حقیقت سے محرومی کی مصیبت میں دونوں شریک وگرفتار ہیں۔ الغرض حقیقت سے آگاہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل ہے، جسے چاہے عطا فرمائے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ بڑے فضل والا ہے اور یہ اس کی حکمت ہے جسے چاہے اس کے ساتھ خاص فرمائے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: وَمَنۡ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًاؕ (پ۳،البقرة:۲۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی۔
ہم دوبارہ مقصد کی طرف آتے ہیں۔ یہاں ہم نے طوالت کی لگام کو کافی ڈھیلا چھوڑدیا اور علومِ معاملات جو اس کتاب میں ہمارا مقصود ہیں ان سے اعلیٰ معاملے کے بیان میں کافی وقت صرف کیا ہے۔ بہرحال یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ ہلاکت وتباہی صرف جاہلوں اور جھٹلانے والوں کے لئے ہے اور اس پر قرآن اور سنت سے اس قدر دلائل ہیں جو حدبندی وگنتی سے باہر ہیں۔ اسی لئے ہم اُن کو بیان نہیں کررہے۔
دوسرے دَرَجے کی تفصیل:
یہ عذاب وسزا پانے والوں کا درجہ ہے۔ یہ اَصْلِ ایمان کے زیور سے تو آراستہ ہوتے ہیں لیکن ایمانی تقاضوں کو پورا کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں کیونکہ ایمان کا سرچشمہ توحید ہے اور وہ یہ ہے کہ”بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے۔“ اور جس نے اپنی خواہش کی پیروی کی گویا اس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرایا،لہٰذا وہ زبان سے تو ایک خدا کا قائل ہے حقیقت میں نہیں بلکہ تم جو یہ کلمہ پڑھتے ہو ”لَا اِلٰہَ اِلَّااللہ“ اس کا معنیٰ ومطلب درج ذیل دو آیتوں میں بیان ہوا ہے۔
(1)... قُلِ اللہُ ۙ ثُمَّ ذَرْہُمْ فِیۡ خَوْضِہِمْ یَلْعَبُوۡنَ ﴿۹۱﴾ (پ۷،الانعام:۹۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کہو پھر انھیں چھوڑدو ان کی بیہودگی میں کھیلتا۔