چیزکے درمیان پایاجاتا ہےاور جس چیز کا تعلق قدرت کے ساتھ ہووہاں قدرت پائی جاتی ہےلہٰذاایسے محل کو فاعل کہہ دیا جاتاہے جس طرح جَلَّاد اور حاکم دونوں کو قاتل کہا جاتا ہےکیونکہ قتل کاتعلق دونوں کی قدرت کے ساتھ ہےلیکن الگ الگ اعتبار سے ہے اسی وجہ سے قتل کو دونوں کا فعل کہاجاتا ہے۔یونہی مقدورات کا تعلق دونوں قدرتوں کے ساتھ ہےاوراسی تعلق اور مُناسَبَت کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآن پاک میں افعال کوکبھی فرشتوں کی جانب توکبھی بندوں کی جانب اورکبھی اپنی جانب منسوب فرمایا۔
افعال کی نسبت خالق یا مخلوق کی طرف ہونے کی 14مثالیں
اللہ عَزَّ وَجَلَّموت کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:
(1)… قُلْ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الْمَوْتِ (پ۲۱،السجدة:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ۔
(2)… اَللہُ یَتَوَفَّی الْاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوْتِہَا (پ۲۴،الزمر:۴۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت۔
(3)… اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَحْرُثُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾ (پ۲۷،الواقعة:۶۳)
ترجمۂ کنز الایمان:تو بھلا بتاؤ تو جو بوتے ہو۔
اس آیت مبارکہ میں ہماری(یعنی بندوں کی) طرف نسبت کی گئی ہے۔
(4)… اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّا ﴿ۙ۲۵﴾ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا ﴿ۙ۲۶﴾ فَاَنۡۢـبَتْنَا فِیۡہَا حَبًّا ﴿ۙ۲۷﴾ وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًا ﴿ۙ۲۸﴾ (پ۳۰،عبس:۲۵ تا۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:کہ ہم نے اچھی طرح پانی ڈالا پھر زمین کو خوب چیرا تو اس میں اُگایا اناج اور انگور اور چارہ۔