حادث ہیں۔یہ بات ”عِلْمِ مُکَاشَفَہ“ کے ایک اور ”عِلْم“ کے دروازے کو دستک دینا ہےاس لئے ہم اس گفتگو کو یہیں چھوڑ دیتے ہیں کہ ہمارا مقصود توحید کے اس راستے کی وضاحت کرنا ہے جس میں فاعل حقیقی ایک ہی ہے، اسی سے خوف کیا جاتاہے، اسی سے امیدباندھی جاتی ہےاوراسی پر توکل و بھروسا کیاجاتاہے۔ہم توحید کے دریا ؤں میں سے صرف ایک قطرہ بیان کرنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ بھی صرف توحید کے تیسرے مقام کا اور اسے بیان کرنے کےلئے ایک لمبی عمر بھی ناکافی ہے۔یہ بات اس شخص کی طرح ہے جوسمندرکے تمام پانی کو حاصل کرنے کے لئے قطرہ قطرہ لے۔یہ گفتگو کلمہ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ“ کے بارے میں ہےجو زبان پر نہایت آسان ہے اور دل پر اس کے الفاظ کا مفہومی عقیدہ نہایت پختہ ہے۔اس کلمہ کی حقیقت و اَصْلیَّت کے مقام ومرتبہ کو پختہ علم والے ہی جانتے ہیں دوسرے کیا جانیں۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
توحید اور شریعت کس طرح جمع ہوسکتے ہیں کیونکہ توحید کے یہ معنیٰ بیان ہوئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی فاعل نہیں جبکہ شریعت سے ثابت ہےکہ بندہ فاعل ہوتاہے۔اگر بندہ فاعل ہےتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کیسے فاعل ہے؟ اوراگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ فاعل ہےتو بندہ کس طرح فاعل ہوسکتاہے؟ایک ہی فعل کےدو فاعل ہوں ،یہ سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔
جواب :یہ سمجھ میں اس وقت نہیں آتا جب فاعل کا ایک ہی معنیٰ ہو،اگر اس کے دو معنیٰ ہوں اور دونوں معنیٰ لئے جاسکتے ہوں تویہ سمجھ میں آتا ہےجس طرح کہاجاتا ہےکہ حاکم نے فلاں کو قتل کردیا ، جَلَّاد نے فلاں کو قتل کردیا،حاکم ایک اعتبار سے قتل کرنے والاہےاورجَلَّاد دوسرے اعتبار سے قتل کرنے والا ہے،ایسے ہی ایک معنیٰ کے اعتبار سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ فاعل ہےاوردوسرے اعتبار سے بندہ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس اعتبار سے فاعل ہے کہ چیزوں کو ایجاد کرنے والااور بنانے والا وہی ہےجبکہ بندہ اس معنیٰ کے اعتبار سے فاعل ہے کہ وہ ایسامحل ہے جس میں علم پیدا کیاگیا پھر ارادہ پیداکیاگیااورپھرقدرت پیدا کی گئی، اس کے بعدقدرت کا ارادہ سے اورحرکت کا قدرت سےتعلق ہواکہ ان کا آپس میں تعلق شرط ومشروط کی طرح اور قدرت الٰہی کے ساتھ ان کا تعلُّق عِلَّت ومَعْلُوْل کی طرح ہے۔یہ وہ تعلق ہےجو بنانے والےاور بنی ہوئی