Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
767 - 882
	زمین وآسمان کے درمیان ہر پیدا ہونے والی چیز کی ترتیب لازمی ،واجب اور ضروری ہےکہ جس طرح وہ پیدا کی گئی ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا تصور نہیں کیاجاسکتا۔ہر چیزاسی ترتیب پر وُجود میں آئی ہے اور ہر پیچھے والی چیزاپنی شرط کا انتظار کرنے کی وجہ سے پیچھے رہتی ہےکیونکہ مشروط کا شرط سے پہلے پایاجانا محال ہے اور مُحال کا وجود نہیں پایا جاتا لہٰذانُطْفَہ کا علم مشروط ہےکہ حیات کی شرط کےبعد ہی پایاجائے گایونہی ارادے کا حیات کی جانب متوجّہ ہونا مشروط ہے کہ علم کی شرط کے بعدہی پایاجائےگا۔ہر ایک کی ترتیب واجب وضروری ہے، ایسا نہیں کہ بلاوجہ  یااتفاقاً ہے بلکہ ہر ایک میں ہزار ہا حکمتیں پوشیدہ ہیں۔اس بات کو سمجھنا  بظاہر مشکل ہے کہ قدرت پائے جانے  کے باوجود مقدور شرط پائے جانے پر موقوف ہےلیکن ہم ایسی مثال پیش کرتے ہیں جس سے کم عقل لوگ بھی حق کی ابتدائی باتیں سمجھ سکتے ہیں: مثلاًایک بے وضو شخص گردن تک گہرے پانی میں کھڑا ہو،پانی اگرچہ حدث دور کرتاہے،جسم سے مس بھی ہے لیکن پھر بھی  وہ  باوضونہیں کہلائے گا،ایسے ہی قدرتِ اَزَلِیَّہ تمام مقدورات کے ساتھ ملی ہوئی ہے اورتمام مقدورات کےساتھ اس کا تعلق قائم ہےلیکن پھر بھی مقدور کا وجود نہیں ہوگاجس طرح چہرہ دھوئے بغیر حَدَث  دور نہیں ہوگااور جب  وہ  شخص اپنا چہرہ پانی سے دھوئے  گاتوپانی کا اثر تمام اعضاء پرہو گا اور حدث دور ہوجائے گا۔
	بعض جاہل  یہ سمجھتے ہیں کہ چہرے سے حدث دور ہونے کی وجہ سے ہاتھوں سے حدث دور ہوا ہےاور دلیل یہ دیتے ہیں کہ پانی جسم سے ملا مگرحدث دور ہوانہ پانی میں کوئی تبدیلی ہوئی اور ہاتھ پہلے پاک نہ تھے تو اب کیوں پاک ہوجاتے ہیں؟ چہرہ دھلتے ہی حدث دور کیوں ہوجاتاہے؟معلوم ہواکہ  چہرے کا دھلنا ہی ہاتھوں سے حدث دور کرتاہے۔
	یہ واضح جہالت ہےاور اس شخص کے گمان کی طرح ہےجو کہتا ہے: حرکت قدرت کی وجہ سے، قدرت ارادہ کی وجہ سےاورارادہ علم کی وجہ سے حاصل ہواہے، یہ سب وجوہات غلط ہیں کیونکہ ہاتھوں سے حدث دور ہونے کی وجہ  چہرے کا دھلنا نہیں بلکہ وہ پانی ہےجوہاتھوں سے مَس ہواہے کیونکہ تبدیلی  پانی میں ہوئی نہ ہاتھوں میں اور نہ ان دونوں میں کوئی نئی چیز پائی گئی البتہ شرط کا وجود پایا گیا پھر اس کا اثر ظاہر ہوگیا۔اسی طرح یہ سمجھا جائے کہ تمام مقدورات قدرت اَزلیہ کی جانب سے ہیں حالانکہ قدرت قدیم ہے  اور تمام مقدورات