Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
766 - 882
یہ ہوا کہ چیزیں ایک دوسرے سے پیدا ہوتی ہیں نہ کہ قدرتِ الٰہی سےاوراگر انکار کرتے ہیں تواس کا کیا مطلب ہے کہ بعض چیزیں بعض پر موقوف ہیں؟
	جواب :یوں سمجھناکہ ایک  چیز دوسری چیزکو پیداکرتی ہے یہ جہالت ہے خواہ اسے پیداکرنا کہاجائے یا نہ کہا جائے کیونکہ ہرچیز کی پیدائش کا معاملہ قدرت اَزلیہ کے سپردہے۔یہ وہ بات ہے  جسے پختہ علم والوں کے سوا کوئی نہیں جانتاکیونکہ وہ اس کی حقیقت پہچانتے ہیں جبکہ عام لوگ صرف الفاظ جانتے ہیں اور اپنی قدرت کے ساتھ اسے تشبیہ دیتے ہیں حالانکہ  ایسا کچھ نہیں۔اس  کی وضاحت بہت زیادہ ہےلیکن ( اتنا سمجھ لیں کہ) بعض چیزیں بعض پر موقوف ہوتی ہیں جیسےمشروط شرط پر موقوف ہوتاہے۔علم آنے کے بعداراد ہ قدرتِ اَزلیہ کی جانب سے آتا ہےجبکہ علم حیات کے بعد آتاہےاورحیات اپنی جگہ میں آنے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ ایسے ہی یوں کہنا درست نہیں کہ حیات اس جسم سے پیدا ہوتی ہےجس جسم میں موجود ہے۔یہی معاملہ مذکورہ تمام درجات کا ہےکہ بعض چیزیں عام لوگوں پر ظاہر ہوجاتی ہیں جبکہ بعض چیزیں نور حق کا مُشاہَدہ کرنے والوں پر ہی ظاہر ہوتی ہیں اگر ترتیب موقوف نہ ہوتی تو آگے والا آگےنہ رہتااور پیچھے والا پیچھے نہ رہتاسوائے ان چیزوں کے جن پر آگے یا پیچھے رہنا لازم و ضروری ہوتا ہے۔یہی معاملہ اَفعالِ باری تعالیٰ کا ہے کہ اگر ترتیب نہ ہوتی تو تقدیم  وتاخیر بے کار ہوتی اورمجانین کے فعل کے مشابہ ہوتی ۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی شان جاہلوں کی بےہودہ بات سے بلند وبالا ہے اور درج ذیل فرامین  الٰہیہ سے اسی جانب اشارہ  ہوتا ہے:
(1)… وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾ (پ۲۷،الذٰریٰت:۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی (اسی) لئے بنائے کہ میری بندگی کریں۔
(2)… وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿۳۸﴾ مَا خَلَقْنٰہُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ (پ۲۵،الدخان:۳۸، ۳۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے کھیل کے طور پر ہم نے اُنھیں نہ بنایا مگر حق کے ساتھ۔