جیسے کوئی کسی کو تلوار سےقتل کرناچاہے اور وہ بھاگ کرچھت سے نیچےچھلانگ لگادے تو اگرچہ یہ کام بھی ہلاکت میں ڈالنے والاہے لیکن وہ اس کی پروا نہیں کرتا اور چھلانگ لگانے سے رُک نہیں پاتااوراگر کوئی شخص اسے معمولی زخم لگانا چاہے اوروہ دوڑ کر چھت کے کنارہ پر پہنچ جائے تواس وقت عقل فیصلہ کرے گی کہ معمولی زخم کی تکلیف نیچے گرنے کی تکلیف سے ہلکی ہے لہٰذا اس کا جسم رک جائے گااورچھلانگ لگانا اس کے لئے ممکن نہ رہے گا کیونکہ ارادہ خود عقل وشعور کے فیصلےکا پابند ہوتا ہے اورقدرت ارادےکی پابند ہوتی ہے اور (جسمانی) حرکت قدرت کی پابند ہوتی ہے۔ ان تمام باتوں کا تعلق انسان کےساتھ ایسا لازم ہوتا ہے کہ اسے خبر بھی نہیں ہوتی بلکہ یہ باتیں انسان میں موجود ہوتی ہیں ،ایسا نہیں ہے کہ انسان سے پیدا ہوتی ہوں۔
مذکورہ گفتگو سے معلوم ہوا کہ مجبور وہ شخص ہے جس میں یہ تمام باتیں کسی دوسرے سے حاصل ہوں جبکہ مختار وہ شخص ہے جس میں ارادہ پایاجائے لیکن پہلے عقل فیصلہ کرے کہ یہ کام بہتر اور مناسب ہے اوریہ فیصلہ مجبوراً پیدا ہوپھر اس شخص میں مجبوراً ارادہ پیدا ہو،اب یہ شخص مکمل بااختیار ہونے میں مجبور ہے جیسے آگ کا کام ’’جلانا‘‘ ہے جو کہ فقط مجبوری ہےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کے افعال فقط اختیاری ہیں اوربندے کافعل ان دونوں کے درمیان ہےجسے اپنے اختیار میں مجبور ہونے سے تعبیر کرتے ہیں، اہل حق نے اس کے لئے نیا نام تلاش کیاہے اورقرآن پاک کی پیروی کرتے ہوئے اسے ’’کَسْب‘‘ کہا جاتا ہے،یہ نہ (مکمل)مجبوری کا نام ہے اور نہ (مکمل )اختیار کا بلکہ جو انہیں سمجھ جائے اس کے نزدیک دونوں کا مجموعہ ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے افعال کو ’’اختیاری‘‘کہتے ہیں ۔اس میں یہ شرط ضروری ہے کہ اختیار سے وہ ارادہ مراد نہ لیا جائےجوحیرانی اور شک کےبعد پایاجاتاہےکیونکہ یہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں محال ہے(ایسے ہی ) لُغَت کے تمام الفاظ شان باری تعالیٰ کے حق میں استعمال کرنا ممکن نہیں، البتہ بطورِاِسْتِعارہ اورمَجاز کے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ اس کی وضاحت یہاں اس کتاب میں مناسب نہیں اور یہ کافی طویل بحث ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
مذکورہ گفتگو سے ظاہر ہوتاہے کہ علم نے ارادہ کو پیدا کیااورارادہ نے قدرت کو پیداکیاپھر قدرت نے جسمانی حرکت پیدا کی اور یہ کہنا کہ ہربعد والی چیز پہلی سے پیدا ہوئی اس کا اگر آپ اقرار کرتے ہیں تو مطلب