وہ چیزیں جن میں عقل غورو فکر کرےاورفوراًنہ جانے کہ بہتر ہے یا نہیں ان میں غورو فکر کی ضرورت پڑتی ہے حتّٰی کہ واضح ہوجائے یہ کام کرنا بہتر ہےیا چھوڑ دینا، جب غورو فکر سے معلوم ہوجائے کہ یہ کام بہتر ہے تو یہ پہلی قسم کے ساتھ شامل ہوجائے گا جس میں غوروفکرنہیں ہوتا،اس قسم میں ارادہ اسی طرح پیدا ہوتا ہے جس طرح تیروتلوار کو دور کرنےمیں پیدا ہوتاہے۔جس کام کا عقلی اعتبار سے بہتر ہونا ظاہر ہوجائے اسے کرنے کےلئے جو ارادہ پیداہوگا اسے’’اختیار‘‘کہیں گےاور اختیار”خیر“ سے بنا ہے تو معنی یہ ہوئے کہ عقل جسے ’’خیر‘‘ کہے اسے کرنےکےلئے تیار ہونا۔یہ پہلی قسم کے ارادہ کی طرح ہےفرق یہ ہےکہ دوسری قسم کا ارادہ اس بات کا انتظار کرتاہےکہ بندہ کےحق میں کام کی بہتری ظاہر ہوجائے جبکہ پہلی قسم کا ارادہ انتظار نہیں کرتا اور دوسرا فرق غور وفکر کا ہے کہ تلوار کو دور کرنےمیں بہتری ہے یہ بغیر غور وفکر بلکہ بغیر شک وشبہ کے ظاہر ہے جبکہ دوسری قسم میں غورو فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔
اختیار ایک خاص ارادے کو کہتے ہیں جس کے سبب انسان عقل کے اشارے پر وہ کام کرنے کے لئے آمادہ ہوجاتاہے جس میں عقل نےشک کیا تھا۔عقل کے بارے میں کہا جاتاہےکہ دو اچھی باتوں میں زیادہ اچھی اور دوبری باتوں میں زیادہ بری بات کوواضح کرنےکےلئے عقل کی ضرورت پڑتی ہے۔ خیال اور شعور کے حکم کے بغیرارادے کا تصور نہیں کیا جاسکتایا عقل کے حتمی فیصلے کےبغیرارادے کا تصوُّر نہیں کیاجاسکتا۔ اسی وجہ سے کوئی انسان اپنی گردن کاٹنا چاہے تو کاٹ نہیں سکتا،وجہ یہ نہیں کہ ہاتھ میں طاقت اورچھری نہیں ہے بلکہ وجہ یہ ہے کہ وہ ارادہ جو قدرت کو ابھارتا ہے وہ پایا نہیں جاتااورنہ پائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ عقل یا شعور کے نزدیک جب کوئی کام بہتر ہوتا ہے تو ان کے حکم سےارادہ پیدا ہوتاہےاورخودکشی کرنے میں چونکہ کوئی بہتری نہیں ہے لہٰذاطاقت ہونے کے باوجود خود کشی ممکن نہیں۔البتہ جب انسان انتہا درجہ کی تکلیف میں مبتلا ہو تو عقل اس معاملہ میں غوروفکر کرے گی کیونکہ غوروفکردونقصان دہ چیزوں کےدرمیان ہوتا ہے، اگر غور وفکر کے بعد ترجیح حاصل ہوجائے کہ خود کشی کرنے میں نقصان زیادہ ہے توخود کشی کرنا ممکن نہ ہوگا اوراگر عقل یہ فیصلہ کرے کہ خودکشی کرنے میں نقصان کم ہےاور فیصلہ بھی ایساپختہ ہوکہ اب اس میں تبدیلی نہ ہوگی تو ارادہ اور قدرت حرکت میں آتے ہیں اور انسان خودکشی کرلیتاہے۔اسے آپ مثال سے یوں سمجھیں