لگائے گا تو یقینی طور پر ہَوا پھٹے گی،گرنے کے بعد پھٹنے کا عمل لازمی ہوگیا۔سانس لینا بھی اسی معنی میں ہے کیونکہ سانس لینے کےارادےاور گلے کےحرکت کرنے میں وہی مُناسَبَت ہے جو بھاری بدن اور پانی کے پھٹنے کے درمیان ہے کہ جب بھی بھاری بدن پانی میں پڑے گا تو پانی ضرور پھٹے گا۔انسان کے اختیار میں جس طرح بھاری پن نہیں ہےاسی طرح ارادہ بھی نہیں ہے،اسی وجہ سے اگر انسان کی آنکھ کے قریب سوئی لائی جائےتو بےاختیار دونوں پلکیں جھپک جائیں گی ایسے وقت آنکھیں کھلی رکھنے کا ارادہ بھی کرے توبھی نہ کرسکے گاکہ پلکوں کو بند کرنا ایسا ”فعل ارادی“ ہے جس پر اختیار نہیں کیونکہ جب سوئی کی صورت ذہن میں آئی تو اس سے ارادہ پیدا ہو اکہ لازمی پلک جھپکانی ہےاور پھرپلکوں میں حرکت پیدا ہوگئی،اگرنہ جھپکانے کا ارادہ کرتاتوبھی رُک نہیں سکتا تھاحالانکہ رُک جانا قدرت اور ارادےوالا فعل ہےلہٰذا یہ بھی ضروری و لازمی ہونے میں ”فعل طبعی“ کے ساتھ ملاہوا ہے۔
تیسری صورت ’’فعل اختیاری ‘‘یہی شک و شبہ کی جگہ ہے جیسے لکھنا ،بولناکہ انسان چاہے تو لکھے چاہے تو نہ لکھے،چاہے تو بولے چاہےتو نہ بولے۔اسی سے گمان پیدا ہوتا ہےکہ انسان خود مختار ہےاور یہ گمان ’’اختیار‘‘
کا مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے،لہٰذا ہم اس کی وضاحت کرتے ہیں۔
اختیار کی وضاحت:
علم جو فیصلہ کرتاہے کہ فلاں چیز تمہارے لئے بہتر ہے،ارادہ اسی علم کے تابع ہوتا ہےاورشےدو طرح کی ہوتی ہے:ایک وہ جس کے بارے میں تمہارا ظاہری یا باطِنی مُشاہَد ہ بغیر کسی حیرانی اورغورو فکرکے فیصلہ کرتا ہے کہ یہ چیز تمہارےلئے بہترہے۔دوسری وہ چیز جس میں تمہاری عقل غوروفکر کرے۔
پہلی قسم مثلاً کوئی تمہاری آنکھ میں سوئی مارنےکا ارادہ کرے یا تمہارے بدن پر تلوارمارنےکا ارادہ کرے۔ ان چیزوں کا تم سے دور ہونا ہی تمہارے حق میں بہتر اورمناسب ہےاورتمہیں اس بات میں کسی قسم کا شک بھی نہیں۔علم کے ذریعہ ارادہ پیدا ہوتا ہے،ارادہ کے ذریعہ قدرت حرکت کرتی ہےپھرپلکوں کی حرکت سوئی دور کرنے کے لئے اور ہاتھ کی حرکت تلوار دور کرنے کے لئے ظاہر ہوتی ہے،البتہ اس میں سوچ بچار نہیں ہوتی صرف ارادہ پایاجاتاہے۔