Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
762 - 882
	جب وہ ارادہ پایا جائےجوقدرت کو کسی چیز کی جانب متوجّہ ہونےپر مجبور کرتا ہےتو قدرت لازمی طور پر اس چیز کی جانب متوجّہ ہوتی ہے، اسے مخالفت کرنے کا کوئی اختیارنہیں ہوتا۔ارادہ دل میں ایک قسم کی ضرورت پیدا کرتا ہے،پختہ ارادے کے وقت قدرت لازمی  حرکت کرتی ہےپھر قدرت کی وجہ سےانسان بھی ضرور حرکت کرتا ہے،یہ تمام باتیں ایک دوسرے کے ساتھ ترتیب وار ہیں۔کوئی انسان ارادہ کو دور کرنے کا اختیار نہیں رکھتا،قدرت کسی چیز کی جانب متوجّہ ہوجائے تو اسے لوٹانے کا اختیا ر نہیں رکھتا،ارادہ قدرت کو عمل کرنے پر ابھارے تو قدرت کو حرکت کرنے سے روکنے کا اختیار نہیں رکھتا،انسان ان تمام معاملات میں مجبور ہے۔
٭…سوال:مذکورہ گفتگو سےمعلوم ہوتاہے کہ انسان محض مجبور ہےجبکہ مجبور ی اورخودمختاری ایک دوسرے کی ضدیں ہیں اور آپ نے خودمختار ہونے کا انکار نہیں کیاتویہ کیسےممکن  ہےکہ انسان مجبور ہو اور خود مختار بھی؟
٭…جواب:اگر پردہ اُٹھ جاتا تو تمہیں ضرور معلوم ہوجاتاکہ انسان مکمل بااختیار ہونے میں مجبور ہے، جسے اختیار کا مفہوم ہی سمجھ  نہ آیا ہو وہ کیسے سمجھ سکتاہے کہ انسان مکمل بااختیارہونے میں مجبور ہے؟ لہٰذااب ہم  عُلَمائے متکلمین کے انداز پراختیار کی مختصر وضاحت کرتے ہیں جو کہ فرمانبرداروں کےلئے مناسب ہوگا اگرچہ ہمارا ارادہ تھا کہ اس کتاب میں صرف علم معاملہ کی وضاحت کریں گے۔
خود مختاری اور مجبوری میں فرق:
	انسان کےحق میں لفظ’’فِعْل‘‘ کااستعمال تین طرح ہوتا ہے:(۱)انسان اپنی انگلیوں کے ذریعہ لکھتا ہے (۲)پھیپھڑےاور گلے کےذریعہ سانس لیتاہےاور (۳)پانی پر کھڑا ہوتو اپنے جسم کےذریعہ پانی کو پھاڑ دیتا ہے۔ یہ تینوں باتیں خود مختاری اور مجبوری دونوں حالتوں میں حقیقت کے اعتبار سے ایک اورظاہر کے اعتبار سے مختلف ہیں۔پانی کی سطح پر انسان کےکھڑے ہونے کے سبب پانی کے پھٹ جانے کو ہم ’’فعل طبعی یعنی طبیعت کےتقاضے کی وجہ سے کام ہونا“کہیں گے۔انسان نے سانس لیااسے ہم ’’فعل ارادی یعنی ارادہ کے ساتھ کام ہونا“کہیں گے ۔انسان نے لکھااسے ہم ’’فعل اختیاری یعنی خود مختار ہوکر کام کرنا“کہیں گے۔
	”فعل طبعی“ میں مجبوری ظاہر ہےکہ انسان جب پانی کی سطح پر کھڑا ہوگا یا چھت سے ہَوا میں چھلانگ