لَنۡ نُّؤْثِرَکَ عَلٰی مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیۡ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنۡتَ قَاضٍ ؕ اِنَّمَا تَقْضِیۡ ہٰذِہِ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ﴿ؕ۷۲﴾ (پ۱۶،طٰہٰ:۷۲)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے ان روشن دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ہمیں اپنے پیدا کرنے والے کی قسم تو تو کرچک جو تجھے کرنا ہے تو اس دنیا ہی کی زندگی میں تو کرے گا۔
خلاصہ یہ کہ جب کوئی بات مکمل واضح اور روشن ہوجائےتو اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ سامری کے پیروکاروں نے جب (حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کے)اژدھا کی جانب دیکھا تو ایمان لے آئے، جب سامری کےبچھڑے کی جانب دیکھااوراس کی آواز سنی توبدل گئے،سامری کی بات سنی:
ہٰذَاۤ اِلٰـہُکُمْ وَاِلٰہُ مُوۡسٰی۬ (پ۱۶،طٰہٰ:۸۸)
ترجمۂ کنز الایمان:یہ ہے تمہارا معبود اور موسٰی کا معبود۔
تو یہ بات بھول گئے کہ یہ بچھڑا نہ ان کی بات کاجواب دے سکتا ہے،نہ انہیں نفع و نقصان پہنچانے کا مالک ہے۔ لہٰذا جو شخص اژدھا دیکھ کر ایمان لایا وہ بچھڑا دیکھ کرکفر میں ضرور مبتلا ہوا کیونکہ یہ دونوں ”عَالَمُ الشَّھَادَۃ“ سے ہیں اور”عَالَمُ الشَّھَادَۃ“ میں اختلاف اور تبدیلی بہت زیادہ پائی جاتی ہےجبکہ ”عَالَمُ الْمَلَکُوْت“ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے ہےلہٰذا اس میں اختلاف ہے نہ تبدیلی کی کوئی گنجائش۔
٭…سوال:توحید کے بارے میں مذکورہ گفتگو سے صاف ظاہر ہےکہ ذرائع اور اَسباب تابع وفرمانبردار ہیں اوریہ معاملہ ہر ایک کےساتھ ہےلیکن انسان جب چاہے حرکت کرتا ہے،جب چاہے حرکت نہیں کرتا تو کس طرح تابع وفرمانبردارہوا؟
٭…جواب :اگر انسان کےخودمختار ہونے سے یہ مراد لیا جائے کہ اگر انسان کسی کام کو کرنےکا ارادہ کرے تو کرلے اور ارادہ نہ کرے تو نہ کرے، یہ قدم کے پھسلنے اور غلطی کی جگہ ہے کیونکہ عام سی بات ہے کہ انسان وہی عمل کرے گا جس کا اس نے ارادہ کیا ہے ،جب کسی عمل کو کرنے یا نہ کرنے کےدرمیان میں ہےتو ارادہ نہ پایاگیا کیونکہ اگر یہاں ارادہ مانا جائے تو اس ارادہ کو ایک دوسرے ارادہ کی ضرورت پڑے گی(جو پہلے ارادہ کوعمل کرنےیا نہ کرنے پرابھارے،ایسےہی تیسرے ارادہ کی ضرورت ہوگی اور پھر چوتھے کی) اس طرح نہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجائے گا،یہ اس وقت ہے جب ارادہ پایا ہی نہیں گیا۔