Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
760 - 882
 شہر کا نظام درہم برہم ہوجاتاہے،اس کی عقل کےمطابق اس سے یوں بات کی جائے :عالَم کا خدا ایک ہے،نظام چلانے والا ایک ہے،اگر زمین وآسمان میں کئی خدا ہوتے تو زمین وآسمان میں ضرور فساد ہوجاتا۔ ”عَالَمُ الشَّھَادَۃ“ کو دیکھنے والے کےلئے یہ مثال عقل کے مطابق ہے،ایسی مثالیں دینے سے اس کے دل میں عقیدۂ توحید کا پودا لگ جائے گا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام   کو اس بات کا حکم فرمایاہےکہ لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کریں،اسی وجہ سےقرآن پا ک کو اہل عرب کی عام گفتگو کےانداز پر نازل کیاگیا ۔
٭…سوال:کیا بیان کردہ عقیدۂ توحیدمیں بھی یہ صلاحیت ہے کہ اس پر توکل کی بنیاد رکھی جاسکے؟
٭…جواب:جی ہاں!عقیدہ جب مضبوط ہوجائےتو کسی بھی  حالت کی علامتوں کو ظاہرکرنے کا کام دیتاہےمگر عام طور پر یہ کمزور ہوتاہے،یہ جلدی لڑکھڑاجاتاہے،جلدی ڈگمگاجاتاہے،اسی وجہ سے ایسےشخص کوکسی ’’عِلْمُ الْکَلَام‘‘ جاننے والےکی ضرورت ہوتی ہےجو اپنی گفتگو کے ذریعہ اس  کےعقیدہ کی  حفاظت کرےیا ایسا شخص خود ’’عِلْمُ الْکَلَام‘‘ سیکھے اور اپنے اس عقیدہ کی حفاظت کرےجو استاد ،والدین یا علاقہ والوں سےسیکھا۔
	وہ شخص جو راہِ سلوک کو دیکھےاور خود اس پر چلے،اسے کسی بات کا خطرہ نہیں بلکہ اگر پردے اُٹھ بھی جائیں تو اس کا یقین مزیدپختہ نہ ہوگا،اگر کچھ ہوابھی تو راہِ سلوک مزید واضح ہوگی جیسےایک شخص صبح کی(کم) روشنی میں کسی انسان کو دیکھے اور اس کے انسان ہونے کا یقین کرلے ،اب  طلوعِ آفتاب کےوقت دیکھے تو اس کا یقین مزید پختہ نہیں ہوگا لیکن اس کے جسمانی اَعضاء کی ساخت مزید واضح ہوجائے گی۔
	اہْلِ کَشْف اور عام آدمی کے  عقیدہ کی مثال فرعون کے جادوگر وں اور سامری کے پیروکاروں کی سی ہے۔ فرعون کے جادوگراپنے طویل مُشاہَدے اور تَجْرِبہ کی وجہ سے جادو ئی اثرات کی انتہا کو پہچانتے تھے۔ انہوں نے حضرت سیِّدُنا موسٰی کلیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جانب سے وہ چیز دیکھی جو جادو کی حد سے بڑھ کرتھی لہٰذا ان پر حقیقت واضح ہوگئی اور انہوں نے فرعون کے اس قول:
فَلَاُ قَطِّعَنَّ اَیۡدِیَکُمْ وَ اَرْجُلَکُم مِّنْ خِلٰافٍ (پ۱۶،طٰہٰ:۷۱)
ترجمۂ کنز الایمان:تو مجھے قسم ہے ضرور میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا۔
	کی بھی پروا نہ کی بلکہ  اس کے جواب میں کہا: