Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
76 - 882
	یہ اس شخص کا معاملہ ہے جسے جانوروں اور درندوں والی صفات اپنا قیدی بنالیتی ہیں اور اس میں فَرِشتوں والی صفات ظاہر نہیں ہوتیں وہ صفات جن سے ربُّ العالَمین عَزَّ  وَجَلَّ کا قرب ہی ملتا ہے اور ان صفات کے لئے باری تعالیٰ سے دوری اور حجاب ہی نقصان دہ ہے اور جس طرح قوتِ ذائقہ صرف زبان میں اور قوتِ سماعت صرف کانوں میں ہوتی ہے اسی طرح یہ صفات بھی صرف دل سے تعلق رکھتی ہیں ،لہٰذا جو بندہ دل سے محروم ہوتا ہے اس میں یہ احساس نہیں ہوتا جیسے کوئی شخص سماعت اور بصارت سے محروم ہو تو وہ خوش آوازی کی لذت اور صورتوں اور رنگوں کی خوبصورتی سے بھی محروم رہتا ہے۔ ہر انسان کے پاس دل نہیں ہوتا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ فرمانِ باری تعالیٰ صحیح نہ ہوتا:
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنۡ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ (پ۲۶،ق:۳۷)  	ترجمۂ کنز الایمان:بےشک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دل رکھتا ہو۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس شخص کو دل کا مُفْلِسْ قرار دیا جو قرآنِ کریم سے نصیحت حاصل نہیں کرتا اور یہاں ”دل “سے میری مراد وہ (گوشت کا ٹکڑا) نہیں جسے سینے کی ہڈیوں نے گھیر رکھا ہے بلکہ اس سے وہ سِر(یعنی راز) مراد ہے جو عالَمِ اَمْر سے تعلق رکھتا ہے اور یہ جو گوشت ہے، عالَمِ خَلْق اس کا عرش ہے، سینہ اس کی کرسی ہے اور تمام اعضاء اس کا جہاں اور مملکت ہے اور خلق (یعنی پیدا کرنے) اور امر (یعنی حکم دینے) کاحقیقی مالک تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی ہے لیکن وہ سر (یعنی راز) جس کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:” قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ (1)“وہ حاکم اور بادشاہ ہے کیونکہ عالَمِ اَمْر اور عالَمِ خَلْق کے درمِیان ایک ترتیب ہے اور عالَمِ اَمْر عالَمِ خَلْق پر حاکم وامیر ہے اور یہی وہ روحانی لطیفہ ہے کہ جب یہ درست ہوجاتا ہے تو سارا جسم درست ہوتا ہے۔ جس نے اِسے پہچان لیا اُس نے خود کو پہچان لیا اور جس نے خود کو پہچان لیا اس نے اپنے رب تعالیٰ کو پہچان لیا۔
	پھر وہ مَقام آجاتا ہے کہ بندہ اُس معنیٰ کی ابتدائی  خوشبو سونگھنے لگتا ہے جو اِس فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں لپٹا ہوا ہے:”اِنَّ اللہ خَلَقَ اٰدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہٖ یعنی  بےشک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔“(2)اور وہ ان لوگوں کو رحم کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو حدیث کے ظاہری لفظوں پر ڈٹے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے۔(پ۱۵، بنی اسرآئیل:۸۵)
2…مسلم، کتاب البرو الصلة، باب النھی  عن  ضرب الوجہ،ص۱۴۰۸، حدیث:۱۱۵( ۲۶۱۲)۔