Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
759 - 882
 کرنا ایسا ہی ہے جیسے گروہ سُمَنِیَّہ(1)”عَالَمُ الْجَبَـرُوْت“ کا انکار کرتاہے ،اس گروہ کا عقیدہ ہےکہ معلومات صرف حواس خمسہ سے حاصل ہوتی ہیں،لہٰذا اس گروہ نے علم،قدرت،ارادہ کا انکار کردیا کہ ان چیزوں کو  حواس خمسہ سےمعلوم نہیں کرسکتے،یہ گروہ  حواس خمسہ کی رَٹ لگا کر”عَالَمُ الشَّھَادَۃ“کی پستی سے چمٹا رہا۔
	اگر اسی گروہ کا کوئی فرد یہ کہے:مجھے حواس خمسہ کے ذریعہ صرف ”عَالَمُ الشَّہَادَۃ“تک رسائی ہوئی ہے اس کےعلاوہ میں کسی چیز کو نہیں جانتا،تواسے جواب میں یہ کہاجائے گاکہ ہم نے جن چیزوں کو حواس خمسہ کے بغیر دیکھا تم اس کےمُنکِر ہواور تمہارا انکار کرنا ایسا ہی ہےجیسے فرقہ سَوْفَسْطائِیَہ حواس خمسہ کا انکار کرتے ہوئے کہتاہے:جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اس پر یقین نہیں کرسکتے ،ہوسکتاہے کہ ہم خواب دیکھ رہے ہوں۔
	اگر کوئی یہ کہے :میرا تعلق ان سب سے ہے ،میں محسوسات میں بھی شک کرتا ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے شخص کی طبیعت خراب ہے، اس  کا علاج نہیں ہوسکتا،لہٰذاایسے شخص کو کچھ دن چھوڑدیا جائے کیونکہ طبیب ہرمریض کا علاج نہیں کرسکتا،یہ انکار کرنےوالےکا حکم ہے۔
	جو ”عَالَمُ الْمَلَکُوْت“ کا انکار نہ کرے لیکن اسے سمجھ نہ پائے تو سالکین اس طریقہ سےایسے شخص  کا علاج کریں کہ پہلے اس آنکھ کی جانب توجّہ کریں جس کےذریعہ ”عَالَمُ الْمَلَکُوْت“دیکھا جاتاہے،اگر وہ آنکھ درست ہے لیکن اس میں کالاپانی اُتر آیاہے اور اس کی صفائی وستھرائی ہوسکتی ہےتو اس کی صفائی کریں جیسےسرمہ کے ذریعہ ظاہری آنکھ کی صفائی کی جاتی ہے،جب بینائی درست  ہوجائےتوراہِ سلوک کی جانب اس کی رہنمائی کریں تاکہ وہ اس راستہ پر چل سکےجیسے نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مخصوص صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی رہنمائی کی، اگر آنکھ علاج کےقابل نہیں تو توحید کا وہ راستہ جسے ہم نے بیان کیا ہے اس پر چلنا ناممکن ہے۔عالَم کے ذرّات  کی گفتگوجوکہ توحید کی گواہی ہے اسے سننا ناممکن ہے،(سالکین)ایسے شخص سے حُرُوف اور آواز کےساتھ گفتگوکریں،توحید کی بلند گفتگو اس کی کم عقلی کےمطابق کریں۔ ”عَالَمُ الشَّھَادَۃ“میں بھی توحید موجود ہے کیونکہ ہر شخص جانتاہےکہ جس گھر کے دو مالک ہوں توگھر کا نظام خراب ہوجاتاہے ،شہر کےدو حاکم ہوں تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…یہ ایک کافر گروہ ہے جو بتوں کی عبادت کرتاہے،ہند کے شہر سومنات سے متعلق ہونےکی وجہ سے سمنیہ کہلایا۔(اتحاف السادة المتقین، ۱۲/ ۶۳)