Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
758 - 882
 صرف اتنا ہےکہ تجھےمعلوم ہوگیا تو محروم ہے،تجھ میں ہمارے جلال وجمال کو دیکھنےکی طاقت نہیں۔ یہ سن کر سالک لوٹ گیا اور جن چیزوں سے ملاقات کی تھی ان سے سوالات اور ناراض ہونے پر معذرت کرتے ہوئے کہنے لگا:میرا عذر قبول کرو،میں اجنبی تھا ،ان شہروں میں ابھی  داخل ہوا اور ہر نئے آنےوالے کو پریشانی ہوتی ہے، میرا تم پر اعتراض کرنا بھی کم علمی اور غلطی کی وجہ سےتھا۔میں تمہارےعذر کو سمجھ چکا ہوں اوریہ بات مجھ پر ظاہر ہوچکی ہےکہ تمام عالَم میں ایک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی منفرد ذات ہے،سب کچھ اسی کے غلبہ اورقبضَۂ قدرت میں ہے،وہی اوّل  ہے،وہی آخرہے ،وہی ظاہر ہے،وہی باطن ہے۔
	جب سالک نے یہی باتیں”عَالَمُ الشَّھَادَۃ“میں بیان کیں تو کسی نے سالک سے پوچھا:کس طرح وہ ذات ابتدا بھی ہےاورانتہابھی حالانکہ یہ دونوں صفتیں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتی، وہ کس طرح ظاہر بھی ہےاور باطن بھی جبکہ ابتدانہ تو انتہاہوتی ہے،نہ ہی ظاہرباطن ہوتا ہے؟سالک نے جواب دیا : موجودات کی جانب نسبت کرنے کے اعتبار سےوہ’’اوّل‘‘ہےکیونکہ ہر چیز بالترتیب یکے بعد دیگرےاسی کی جانب سے وجود میں آتی ہے، ہر چیز اسی کی جانب رواں دواں ہےاس اعتبار سےوہ ’’آخر ‘‘ہےکیونکہ لوگ منزل بہ منزل اسی کی جانب بڑھتے ہیں یہاں تک کہ اس کی بارگاہ میں منزل ختم ہوجاتی ہے،وہی سفر کا آخِر  ہے،وہ دیکھنے کےاعتبار سے ’’آخر‘‘ہے ،وہ وجود کےاعتبار سے ’’اوّل ‘‘ہے۔
	”عَالَمُ الشَّھَادَۃ“میں ٹھہرنے والوں کے اعتبار سے وہ ’’باطن ‘‘ ہے کیونکہ وہ حواسِ خمسہ کے ذریعہ اس کی معرفت چاہتےہیں۔”عَالَمُ الْمَلَکُوْت“میں پائی جانے والی باطِنی بصیرت کےذریعہ قلبی چراغ کی روشنی میں ڈھونڈنے والوں کےاعتبار سے وہ ’’ظاہر‘‘ہے۔توحید کے راستہ پر چلنے والوں کی توحید بھی اسی طرح ہے یعنی ان پر واضح کردیاجاتا ہےکہ فاعل صرف ایک ہی ہے۔
چندسُوالات و جوابات:
٭…سوال:معلوم ہواکہ توحیدمذکور کی انتہااس وقت ہوگی جب ”عَالَمُ الْمَلَکُوْت“پرایمان لایاجائے، تو جو شخص اسے سمجھ نہ سکے یا اس کا انکار کردے اس کا کیا علاج ہے؟
٭…جواب :انکار کرنےوالے کا کوئی علاج نہیں، البتہ اتنا ضرور کہاجائے کہ تمہارا ”عَالَمُ الْمَلَکُوْت“ کا انکار