Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
757 - 882
 کیونکہ پوچھ گچھ موصوف سے ہوتی ہےصِفَت سے نہیں۔قریب تھا کہ سالک لڑکھڑاجاتااور بےباک ہوکر زبان پر سوال آجاتا لیکن وہ ثابت قدم رہا،اسے بارگاہِ الٰہی کے پردوں کے پیچھے سے آواز دی گئی:
لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳﴾ (پ۱۷،الانبیآء:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اُس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اور اُن سب سے سوال ہوگا۔
	سالک پر بارگاہِ الٰہی کی ہیبت طاری ہوگئی وہ بےہوش ہوکر گرپڑا ،بےہوشی میں تڑپتارہا،جب کچھ اِفاقہ ہوا تو اس نے کہا:تو پاک ہے ،تیری شان کتنی عظمت والی ہے،میں توبہ کرتاہوں ،تجھ پر توکُّل کرتا ہوں اور اس بات پر ایمان لاتاہوں کہ تو ہی بادشاہ جبار ہے، توہی واحد قہار ہے،مجھے تیرے علاوہ کسی کا ڈر نہیں ، مجھے تیرے علاوہ کسی سے امید نہیں،میں تیری گرفت سے تیرے عفو ودرگزر ہی کی پناہ چاہتاہوں ،میں تیری ناراضی سے تیری رضا ہی کی پناہ چاہتاہوں،میں تجھ ہی سے سوال کرتا ہوں،تیری ہی بارگاہ میں گریہ وزاری کرتاہوں، تیرے ہی سامنے گڑگڑاتاہوں،تیری ہی بارگاہ میں عرض کرتاہوں کہ تو میراسینہ کھول دے تاکہ تیری معرفت حاصل کروں،تو میری زبان  کی رکاوٹ دور کردے تاکہ تیری حمد و ثنا(کاحق ادا) کروں۔ پردے کے پیچھے سے آواز آئی:(انتہادرجہ والی)حمد وثنا کی تمنا کرنے سے احتیاط کر۔سیِّدُالاَنبیاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے آگے بڑھنےکی کوشش نہ کربلکہ ان کی طرف لوٹ جا۔ جو تجھے دیں وہ لے لے، جس سے روکیں رُک جا،جو کچھ انہوں نے کہا وہی کہہ،انہوں نے اس بارگاہ میں یہی کہا ہے:”سُبْحَانَکَ لَااُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ  یعنی تو پاک ہے ،میں تیری ثنا شما ر نہیں کرسکتاتو ویسا ہےجیسے تونےخوداپنی ثنا بیان فرمائی ہے۔“(1)
	سالک نے عرض کی :اے میرے ربّعَزَّ  وَجَلَّ!زبان کوتیری ثنا کرنے کی اجازت نہ ملی،کیادل  (انتہائی) معرفت کی تمنا کرسکتا ہے؟فرمایاگیا :صِدِّیْقِیْن کےمقام سے آگے مت بڑھ،تو صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جانب لوٹ جا ،ان کی پیروی کرکیونکہ سیِّدُالاَنبیامحمد رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی پیروری کروگے ہدایت یافتہ ہوجاؤگے ،کیا تم نے صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قول نہیں سنا:’’ذات باری تعالیٰ کو سمجھنے سے عاجزہوجاناہی اسے سمجھنا ہے۔‘‘ہماری بارگاہ سے تیرا حصہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم، کتاب الصلاة، باب مایقال فی الرکوع والسجود، ص۲۵۲، حدیث:۴۸۶