Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
756 - 882
 کے پاس پہنچااور کہا:اے قلم!تجھے کیا ہوا کہ تو دل پر کوئی نہ کوئی بات لکھتا رہتا ہے جس سے ارادہ طاقت کو اُبھارتا ہےپھر طاقت اپنے اختیار کی جانب متوجّہ ہوتی ہے۔ قلم نے کہا:تم نے ”عَالَمُ الشَّھَادَۃ“ میں جو کچھ  دیکھا کیا تم اسے بھول گئے ہو؟تم نے قلم سے سُوال کیا تو اس نے تمہیں ہاتھ کی جانب پھیردیا کیا تم اس کے جواب کو بھول گئے؟سالک نے کہا : میں کچھ نہیں بھولا۔قلم نے کہا :میرا بھی وہی جواب ہے۔ سالک نے کہا:یہ کس طرح ہے حالانکہ تم اس قلم سےمشابہت نہیں رکھتے؟قلم نے کہا:کیا تم نے نہیں سناکہ ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔‘‘سالک نے کہا:ہاں۔قلم نے کہا:تم میرے بارے میں اس سے پوچھو جسے ”یَمِیْنُ الْمَلِکْ“ کہا جاتا ہے،میں اسی کےقبضہ میں ہوں،وہی مجھے کام میں مصروف رکھتا ہے،میں مجبور ہوں،میں تابع ہوں،تابع ہونے کے اعتبار سے قلم انسانی اور قلم الٰہی میں کوئی فرق نہیں صرف ظاہری صورت کا فرق ہے۔سالک نے پوچھا:” یَمِیْنُ الْمَلِکْ“ کون ہے؟قلم نے جواب دیا : کیا تم نےیہ  فرمانِ الٰہی نہیں سُنا:  وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ ؕ (پ۲۴،الزمر:۶۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دیئے جائیں گے۔
	سالک نے کہا :ہاں۔قلم نے کہا:قلم بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے جو اسےمصروف رکھتا ہے۔ سالک نے وہاں سے قبضَۂ قدرت کی جانب سفر کیایہاں تک کہ اسے دیکھ لیا ،قلم کےعجائبات سے بھی زیادہ اس کے عجائبات دیکھے،اس کی کسی خوبی کو بیان کرنا ممکن نہیں ،نہ اس کی وضاحت ہوسکتی ہے بلکہ اس کی کسی ایک خوبی کا سوواں حصہ بھی کئی جلدوں میں سمانہیں  سکتا،خلاصہ یہ کہ  نہ اس کا قبضہ دیگر قبضوں  کی طرح ہے، نہ دیگر ہاتھوں کی طرح انگلیاں رکھتاہے۔سالک نے قبضہ قدرت میں  قلم کو حرکت کرتے دیکھا توقلم کا مجبور ہونا سمجھ میں آگیا۔پھرسالک نے قبضَۂ قدرت سے قلم کو حرکت دینے کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے جواب دیا :میرا جواب وہی ہےجو تم نے ”عَالَمُ الشَّھَادَۃ“میں موجود ہاتھ سے سنا تھا،جواب یہی تھا کہ قدرت سے پوچھوکیونکہ ہاتھ خود بخود حرکت نہیں کرتا یقیناًاسے قدرت ہی حرکت دیتی ہے،سالک نے قدرت کی جانب سفر کیا اور وہ عجائبات دیکھے کہ پہلے کے  تمام عجائبات معمولی نظر آئے،اس نےہاتھ کو حرکت دینےکے بارے میں  قدرت سے سوال کیاتو قدرت نے جواب دیا :میں تو صفت ہوں ،تم قادر سے پوچھو