Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
755 - 882
سمجھو گے؟ اگر تم حدیث پاک:’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا‘‘(1) میں صورت سے مرادظاہری صورت سمجھوگے جوکہ آنکھ سے دیکھی جاتی ہے تومطلقاً تشبیہ دینے والے ہوجاؤگے جس طرح کہا جاتا ہے کہ ’’خالص  یہودی بن اگر ایسا نہیں کرسکتا توپھر تورات سےمت کھیل‘‘اگر صورت سے مراد باطنی صورت سمجھوگے جسے بصیرت سے دیکھا جاتا ہے نہ کہ آنکھ سے تو خالصتاً تشبیہ سے پاک و منزّہ ماننے والے مرد ہوجاؤ گے اور اس راستہ کو طَے کرلوگے اور وادیِ مقدّس ’’طُوٰی‘‘میں پہنچ جاؤ گے۔ جب دل پر اِلہام کیا جائے تو اسے بغور سننا کہ شایدتمہاری راہ نمائی کی جائےجس طرح حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کو عرش کے پردوں کے پیچھے سے ندا کی گئی:”اِنِّیۡۤ اَنَا رَبُّکَ (پ۱۶، طٰہٰ:۱۲،ترجمۂ کنز الایمان:بےشک میں تیرا رب ہوں۔)“ شایدتمہیں بھی آواز دی جائے۔
	جب سالک نے ’’عِلم‘‘ کی یہ گفتگو سُنی تو اس نےجان لیا کہ اس کے نفس میں کوتاہی ہے،وہ تشبیہ دینے والے اور تشبیہ سے پاک ماننے والو ں کےدرمیان مخنّث ہے،اس نے اپنے نفس کو نقصان کی آنکھ سے دیکھا تو اسے اپنے نفس پر غصہ آیا جس کی شدت  سے اس کےدل میں آگ بھڑک اُٹھی ،قریب تھا کہ قلبی چراغ کا تیل آگ پہنچنےسے پہلے ہی  بھڑک جاتا کہ علم نے اس میں پھونک ماردی اور دل کی گرمائش کی وجہ سے تیل بھڑک اُٹھا اورروشنی مزید بڑھ گئی۔علم نے سالک سےکہا: تم اس موقع کو غنیمت جانواوراپنی آنکھیں کھولوکہ شاید آگ کےذریعہ راہ نمائی مل جائے۔سالک نے اپنی آنکھیں  کھولیں  تو قلم الٰہی اس پر ظاہر ہوگیا، وہ تشبیہ کے بغیر ویسا ہی تھا جیسےعلم نے اس کی وضاحت کی تھی،نہ  لکڑی کا تھا نہ سرکنڈہ کا،نہ نوک تھی نہ سرا۔ انسانی دلوں پر مسلسل مختلف علوم لکھتا ہے،ہر دل میں اس کی نوک ہےحالانکہ اس کی کوئی نوک نہیں۔اس سے سالک کی حیرانی ختم ہوئی اور کہنے لگا:علم کتنا اچھا دوست ہے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے میری طرف سے جزائے خیر عطافرمائے، علم نے قلم کی جو وضاحت کی تھی اس کی سچائی مجھ پر واضح ہوچکی ہے،میں ایسے قلم کو دیکھ رہا ہوں جو دوسرے قلموں کی طرح نہیں ہے۔ پھر سالک نے علم کا شکریہ اداکیا اور اسے رخصت کرتےہوئے کہا:میں بہت دیر تک تمہارے پاس ٹھہرا، تم سے لمبی گفتگو ہوئی، اب چاہتا ہوں کہ قلم کےپاس جاؤں اور اس سے پوچھوں۔ سالک سفر کرکے قلم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم، کتاب البر والصلة، باب النھی عن ضرب الوجہ، ص۱۴۰۸، حدیث:۲۶۱۲