مقصد تک پہنچانے والے راستہ کو مکمل طَے کرنے کا ارادہ رکھتے ہوتو کان لگاکر متوجّہ ہوجاؤاور جان لو!تمہارے راستہ میں تین عالَم ہیں، پہلا عالَم ”عَالَمُ الشَّھَادَۃ“ہےکاغذ،روشنائی ،قلم اور ہاتھ کا تعلق اسی عالَم سے ہے۔تم ان منزلوں کو بآسانی طَے کرچکے ہو۔ دوسرا عالَم”عَالَمُ الْمَلَکُوْت“ ہے ۔یہ میرےبعد ہےجب تم مجھ سے آگے بڑھوگےتو اس کی منزل تک پہنچو گے، اس میں وسیع و عریض جنگل بیابان ،بلند و بالا پہاڑ اور گہرے سمندرہیں ، میں نہیں جانتا کہ تم ان سے کیسے سلامت رہوگے۔تیسرا عالَم”عَالَمُ الْجَبَـرُوْت“ہے۔یہ عالَم پہلے دونوں کے درمیان میں ہے، تم اس کی تین منزلیں طَے کرچکے ہویعنی قدرت،ارادہ اور علم کی منزل، یہ عالَم پہلے دونوں کے درمیان واسطہ ہےکہ پہلے عالَم کاراستہ اس سے آسان ہے جبکہ دوسرے کا راستہ اس سے مشکل ہے،تیسرا عالَم پہلے دونوں کے درمیان کشتی کی مانندہے جو زمین اور پانی کے درمیان حرکت کرتی ہے،یہ پانی کی طرح اِضْطِرابی حالت میں ہے نہ زمین کی طرح سکون و ٹھہراؤ کی حالت میں ،جو زمین پر چلتاہے وہ”عَالَمُ الشَّھَادَۃ“ میں چلتا ہے،جس میں کشتی پر سوار ہونےکی مزید طاقت ہووہ ”عَالَمُ الْجَبَـرُوْت“ میں چلنے والے کی مانندہے اوراگر کشتی کےبغیرپانی پرچلنے کی قوت ہوجائے تووہ بغیرجھنجلاہٹ کے”عَالَمُ الْمَلَکُوْت“میں چلنے والاہے۔اگرتم پانی پر چلنے کی طاقت نہیں رکھتے تو لوٹ جاؤکیونکہ تم زمین سے آگے بڑھ چکےہو،تم کشتی سے پچھے رہ چکےہو،تمہارے سامنے صاف پانی کے علاوہ کچھ نہیں۔
”عَالَمُ الْمَلَکُوْت“ میں سب سے پہلے ”قلم“ کا مُشاہَدہ ہوتا ہے، جس کے ذریعہ دل کی تختی پر”علم“ لکھا جاتا ہےاور”یقین“ کا مشاہدہ ہوتا ہے، جس کے ذریعہ انسان پانی پر چلاجاتاہے۔کیا تم نے حضرت سیِّدُنا عیسٰی روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے متعلق نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قول مبارک نہیں سناجب بارگاہِ مصطفٰے میں عرض کی گئی:حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپانی پر چلتے تھے۔فرمایا:اگر یقین زیادہ ہوتا تو ہواپر ضرورچلتے۔(1)
سوال کرنےوالے سالِک نے کہا:میں اپنے مُعامَلے میں حیران ہوگیاہوں، تو نے جو راستہ کے خَطَرات بیان کئے ہیں ان سے میرا دل خوف زدہ ہوگیاہے۔میں نہیں جانتا کہ میں اس وسیع وعریض جنگل بیابان کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الزھد الکبیر للبیھقی، باب الورع والتقوی، ص۳۵۷، حدیث:۹۷۶