Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
752 - 882
 سختی کرنا  چھوڑدو،میں اس کہنے والے کی طرح ہوں:
مَتٰی تَرَحَّلْتَ عَنْ قَوْمٍ وَقَدْ قَدَّرُوْا	اَنْ لَاتُفَارِقَھُمْ فَالرَّاحِلُوْنَ ھُمْ
	ترجمہ:لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تم انہیں کبھی چھوڑ کر نہ جاؤگے جبکہ تم وہاں سے رخصت ہوتے ہوتو جداوہی لوگ ہوتےہیں تم نہیں۔
	اس شخص نے ارادہ سےکہا : تو  نے سچ کہا۔پھر وہ شخص علم ،عقل اوردل کی جانب متوجّہ ہوا، قدرت کو اٹھانے کے لئے ارادہ کومسخرکرنے  اورابھارنے پر ان کی سرزنش کی۔عقل نے جواب دیا:میں چراغ ہوں جو خود نہیں بھڑکتا،بھڑکایا جاتاہوں۔دل نے کہا:میں تختی ہوں خود نہیں پھیلتی،پھیلائی جاتی ہوں۔علم نے کہا: میں نقش ہوں جودل کی سفید تختی پرنقش ہوتا ہے، جب عقل کا چراغ روشن ہوتا ہےتو میں دل کی سفیدتختی پر نقش ہوتاہوں، میں خود نہیں لکھا جاتا،کتنا عرصہ یہ تختی مجھ سے خالی رہی ،تم قلم سے میرے بارے میں سوال کروکیونکہ لکھائی قلم کے ذریعہ ہی ہوتی ہے۔اس وقت پوچھنے والاجھنجلا گیاکہ علم کاجواب اسے مطمئن نہ کرسکا تواس نے کہا:اس راستہ میں میری تھکاوٹ زیادہ ہوگئی ،بہت سی منزلیں طَے ہوئیں ،جس سے اس معاملہ کو جاننے کی امید باندھی، ایک نے دوسرے کے سپرد کیا لیکن کثرت تکرار کےباوجود دل خوش ہواکہ میں ایسے کلام کو سنتا تھا جو دل میں جاگزیں ہوتا،ایسے عذر کو سنتا تھاجو سوال دورکرنےمیں معقول ہوتاجبکہ تمہارا جواب:’’میں لکھائی و نقش ہوں اور مجھے قلم نے لکھا ہے۔‘‘میری سمجھ میں نہیں آیا کیونکہ میں تو صرف اس قلم کو جانتا ہوں جو سرکنڈہ سے بنتاہے ،اس تختی کو جانتاہوں جو  لوہےسے یا لکڑی سے بنتی ہے ،اس لکھائی کو جانتاہوں جو سیاہی سے لکھی جاتی ہے،اس چراغ کو جانتاہوں جو آگ سے روشن ہوتا ہے۔میں نے اس راستہ میں چراغ،تختی ،لکھائی اور قلم کی گفتگو سنی لیکن ان میں سے کسی کو نہیں دیکھا،میں نے چکی کی گھڑگھڑاہٹ سنی مگر چکی نظر نہ آئی۔علم نے اس سے کہا:جو تم نے کہااگر وہ سچ ہے تو تمہارا سامان کم ہے ،زادِ راہ تھوڑا ہے اورسواری کمزور ہے،چَوکنّے ہوجاؤ!جس راستہ کی جانب بڑھ رہے ہواس میں ہلاکتیں بہت زیادہ ہیں، مناسب یہی ہے تم لوٹ جاؤاور اپنے خیال کو ترک کر دو ،یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ،تم اپنی راہ لوکیونکہ جو جس مقصد کے لئے پیدا کیا جاتا ہے وہ اس کےلئے آسان کردیاجاتا ہے۔اگر تم